کسمپرسی اور بے بسی کا سکّہ چل رہا تھا، فریاد سننے والا دُور دُور تک نظر نہیں آتا تھا، ان حالات میں ایک واقعہ پیش آیا سُننے کیلیے کلیجہ تھامنا پڑے گا 

مصنف:ع غ جانباز قسط:36والد صاحب نے اپنے مطب جس کا نامِ نامی تھا  ”دو آبہ سنیاسی کمپنی“ جو نواں شہر انڈیا میں واقع تھا اس سے ملحقہ پلاٹ

بڑا ڈیٹا Jan 23, 2026 IDOPRESS

مصنف:ع غ جانباز


قسط:36


والد صاحب نے اپنے مطب جس کا نامِ نامی تھا ”دو آبہ سنیاسی کمپنی“ جو نواں شہر انڈیا میں واقع تھا اس سے ملحقہ پلاٹ میں صابن بنانے کا کاروبار بھی شروع کر دیا تھا لہٰذا والد صاحب کسی اِدھر اُدھر واقع صابن کے کارخانہ کی تلاش میں سرگرداں رہے اور آخر کار ایک ویران لیکن ضروری سامان سے آراستہ چھوٹا سا صابن بنانے کا کارخانہ مل گیا۔ لہٰذا وہاں پر قبضہ کر کے بیٹھ گئے اور اچھے دنوں کے انتظار میں کہ کب حالات بہتر ہونگے تو کام شروع کریں گے۔ نگرانی کی ڈیوٹی ہم دیتے رہے تاکہ قبضہ برقرار رہے۔ لیکن یہ امید بر نہ آئی کیونکہ اپنے گاؤں کے دوسرے لوگ اور رشتہ دار اس بات پر مُصر تھے کہ پہلے فیصل آباد جا کر زَرعی زمین پر قبضہ جمایا جائے پھر کسی اور کام کا سوچا جائے۔ والد صاحب کو بھی انہوں نے مجبور کردیا اور ساتھ ملا لیا اور لاہور چھوڑ کر فیصل آباد جانے کا پروگرام بننے لگا۔


اس مکان میں رہائش کے دوران ایک بڑا دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ہوا یوں کہ گھروں میں اُن دنوں کوئی لیٹرین اور واش رومز کا بندوبست تو نہ ہوتا تھا لہٰذا یہ سب کام گھر سے باہر کیے جاتے تھے۔ لہٰذا میں بھی ایک دن گھر سے نیچے اترا اور سامنے مکان کی پچھلی دیوار کے ساتھ مُنہ کر کے پیشاب کے لیے بیٹھ گیا۔ بائیں طرف کچھ کھلی جگہ پھر اس کے پار رہائشی مکان تھے۔ میں نے بمشکل ابھی اپنا کام شروع ہی کیا تھا کہ اُدھر سے ایک اچھے ڈیل ڈول کا شخص ہاتھ میں ربڑ کا ہنٹر تھامے میری طرف بھاگا۔ اب بات تو جلدی سمجھ میں آگئی کہ وہ میری اِس حرکت پر جوش میں آگیا اور وہ مجھے اس کی قرار واقعی سزا دینے کے لیے کمر بستہ ہو کر ادھر بھاگا۔ میں بھی سترہ اٹھارہ سال کا نوخیز سمجھ گیا کہ کیا ہونے والا ہے اور اپنا کاروبار جلدی سمیٹ کر ایسا رفو چکر ہوا کہ ہنٹر والا بیچارہ ہاتھ ملتے رہ گیا۔


فیصل آبادجانے کے لیے ایک ٹرک کرایہ پر حاصل کیا گیا۔ عورتوں، لڑکوں،، لڑکیوں، بچّوں کو اس میں سوار کر دیا گیا اور مرد حضرات ریل کے ذریعے سفر کرنے کے لیے چل دئیے کیونکہ ریل میں اُن دنوں کوئی ٹکٹ وغیرہ نہیں تھا سب ٹرینیں مہاجرین کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے کام پر لگی ہوئی تھیں۔ اب اس ٹرک کے سفر کی داستان بڑی لرزہ خیز ہے سنیے۔ ٹرک میں عورتوں، لڑکوں، لڑکیوں اور بچّوں کی تعداد اتنی تھی کہ آپ کو کوئی جگہ خالی نظر نہ آتی تھی۔ سبھی کھڑے تھے اور کسی کے بیٹھنے کی بھی گنجائش نہیں تھی۔ حالانکہ ان میں کچھ عمر رسیدہ خواتین بھی تھیں جن کا حق بنتا تھا کہ وہ آرام سے بیٹھ کر سفر کریں لیکن وقت وقت کی بات ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب آرام کا لفظ اپنا مفہوم کھو چکا تھا اور کسمپرسی اور بے بسی کا سکّہ چل رہا تھا۔ فریادی تھا کہ لَب کھولے لیکن فریاد سننے والا دُور دُور تک نظر نہیں آتا تھا۔ ان حالات میں جو وہاں ایک واقعہ پیش آیا وہ سُننے کے لیے کلیجہ تھامنا پڑے گا جی ہاں!


میرے سامنے میری ہم عمر لڑکیوں کا ایک گروپ تھا جو آپس میں ایک نہ ختم ہونے والی گفتگو میں مصروف تھا اور کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ پھر اس شور زدہ انجمن کو اچانک جیسے سانپ سُونگھ گیا ہو۔ اور ایک دائمی خاموشی نے آلیا۔ ایک لڑکی جو میرے آگے کی طرف تھی، کچھ خاموشی سے دُوسروں کے کانوں میں کُھسر پُھسر کر رہی تھی۔ ایک سے دوسری دوسری سے تیسری…… غرض سب کو اس لڑکی کا پیغام پہنچ چکا تھا۔ وہ پیغام کیا تھا؟ جس کا انکشاف جلدی ہوگیا کہ میں ”مسمّی عبد الغفور“ اس لڑکی کے ساتھ مسلسل ”touch“ ہونے کے موڈ میں تھا۔ (جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں