مصنف:رانا امیر احمد خاں قسط:285 تقریب کے آغاز میں کونسل کے جنرل سیکرٹری ظفر علی راجا ایڈووکیٹ نے اسلامی تاریخ کے چند واقعات کا ذکر کیا کہ پاکستان کے

مصنف:رانا امیر احمد خاں
قسط:285
تقریب کے آغاز میں کونسل کے جنرل سیکرٹری ظفر علی راجا ایڈووکیٹ نے اسلامی تاریخ کے چند واقعات کا ذکر کیا کہ پاکستان کے آئین اور قانون میں بھی اقلیتوں کو مسلمانوں کے برابر حقوق دئیے گئے ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے بانی پاکستان کی 11 اگست 1947ء کو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر کا بھی بطورِ خاص حوالہ دیا۔ ان ابتدائی کلمات کے بعد تقریب کے مہمانِ خصوصی مارٹن جاوید مائیکل کو دعوتِ خطاب دی گئی جنہوں نے خوبصورت انداز میں تحریکِ پاکستان میں مسیحی برادری کے کردار اور کارکنوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ 23 مارچ 1940ء کو منٹوپارک لاہور میں قراردادِ پاکستان کی منظوری کے وقت ہندوستان بھر کے چیدہ چیدہ اور نامور مسیحی رہنما اس تاریخی اجلاس میں شریک تھے اور انہوں نے مطالبۂ پاکستان کی غیر مشروط حمایت کی اور پھر وہ تحریکِ پاکستان کی جدوجہد میں آخر تک مسلمانوں کے شانہ بشانہ مصروفِ عمل رہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1947ء میں جب متحدہ پنجاب اسمبلی کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ پنجاب ہندوستان کے ساتھ رہے یا پاکستان کے ساتھ اور جب دونوں طرف کے ووٹ برابر ہو گئے تو اسمبلی کے مسیحی سپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا نے اپنا کاسٹنگ ووٹ پاکستان کے حق میں ڈال کر اسمبلی سے پنجاب کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد پاس کروائی۔ یہاں تک پیشکش کی کہ پنجاب کی تقسیم کا فیصلہ کرتے وقت مسلمانوں اور ہندوؤں کی آبادی کا تخمینہ لگاتے ہوئے مسیحیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جب بہت سے مسلمان رہنما قائدِ اعظم اور پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے مسیحی کمیونٹی نے بڑھ چڑھ کر پاکستان کی حمایت کی۔ مارٹن جاوید مائیکل نے اپنی کمیونٹی کی طرف سے قائد اعظمؒ کے لیے بے پناہ محبت اور احترام کا اظہار کیا اور مسیحیوں کے بارے میں قائد اعظمؒ ؒاور اس دور کی قیادت کے رویوں پر تحسین اور تشکر کا اظہار کیا۔ تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ قائد اعظمؒ کی وفات کے بعد حالت بدل گئی۔ وہ تمام جماعتیں اور مذہبی رہنما جنہوں نے پاکستان اور قائد اعظمؒ کی مخالفت کی تھی پاکستان کے ٹھیکیدار بن گئے اور پاکستان کو قائد اعظمؒ کے وژن کے برعکس ملک بنانے کے درپے ہو گئے۔ ان کی ریشہ دوانیوں کے سبب پاکستان میں اقلیتوں خصوصاً مسیحی کمیونٹی سے زیادتیاں شروع ہو گئیں۔ آج توہینِ رسالت کے قانون کی آڑ میں اْن پر ظلم و ستم ہو رہا ہے، مسیحیوں کے گھر جلائے جا رہے ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ قائد اعظمؒ کے پاکستان کو زندہ کیا جانا چاہیے اور ہم سب کو اکٹھے ہو کر سچ کی آواز کو بلند کرنا چاہیے۔ ان آخری کلمات سے قطع نظر مارٹن جاوید مائیکل نے بڑا خوبصورت اور پْرمغز خطاب کیا اور تحریک پاکستان میں مسیحی کمیونٹی کے کردار کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔
مارٹین جاوید مائیکل کے خطاب کے بعد سٹیزن کونسل کے الطاف قمر صاحب نے تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے تحریکِ پاکستان میں مسیحی کمیونٹی کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اپنے اپنے انداز اور الفاظ میں مسیحی کمیونٹی کے لیے اپنی اپنی محبتوں کا اظہار کیا اور اْن کے تحفظات کے جواب میں یقین دلایا کہ تمام پاکستانی مسلمان مسیحیوں کو بالکل اپنے بھائیوں کی طرح سمجھتے ہیں اور اْنہیں اس بارے میں قطعی کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ راقم الحروف نے بھی اپنی باری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مسیحی برادری کی تحریکِ پاکستان میں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مارٹن جاوید مائیکل کے بتائے ہوئے تمام واقعات کی تاریخی حوالوں سے ناصرف تائید و تصدیق کی بلکہ اِس ضمن میں کچھ مزید واقعات اور شخصیات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ صرف تحریک پاکستان کے دوران ہی نہیں بلکہ پاکستان بننے کے بعد بھی مسیحی برادری نے پاکستان کی تعمیر و استحکام میں قابلِ قدر کردار ادا کیا جو کہ اب تک جاری ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
