مصنف:شہزاد احمد حمیدقسط:417اوچ شریف؛اوچ شریف کا تاریخی اور قدیم قصبہ میں واقع حضرت سرخ پوش بخاری ؒ ان کے پوتے حضرت جہانیاں جہاں گشتؒ، حضرت قادر گیلانیؒ کے

مصنف:شہزاد احمد حمید
قسط:417
اوچ شریف؛
اوچ شریف کا تاریخی اور قدیم قصبہ میں واقع حضرت سرخ پوش بخاری ؒ ان کے پوتے حضرت جہانیاں جہاں گشتؒ، حضرت قادر گیلانیؒ کے مزارات،روایت کے مطابق محمد بن قاسم کی تعمیر کردہ مسجد اور وہ کنواں جس کے بارے مشہور ہے کہ”خواجہ فرید گنج شکر ؒ“ یہاں کئی برس تک الٹے لٹکے رہے، مغل دور حکومت کے ایک گورنراعزازالدین کا مقبرہ، یونیسکو ہیر ئٹیج میں شامل بی بی جیوندی کا مقبرہ، یہ سب مل کر آنے والوں کو اپنے سحر اور جلال میں جکڑ لیتے ہیں۔ انہی بزرگوں کی تعلیمات کا کرشمہ تھا کہ اوچ اورگردو نواح میں آباد غیر مسلم قومیں مسلمان ہو گئیں۔ ان کی کرامات آج بھی زبان زد عام ہیں اور یہ مزارات فیض و برکات کے اونچے اور متبرک مقام ہیں۔میں خود کو روحانی اور جذباتی اعتبار سے حضرت سرخ پوش بخاری ؒ کا مرید گردانتا ہوں۔ یہ جاہ و جلال کا مرکز ہے۔ اپنے بہاول پور قیام کے دوران اکثر ان کے مزار پر حاضری دیتا تھا۔ ایک بار میری بیگم اور بچے عمر اور احمد بھی دربار کی زیارت کو آئے تھے۔اوچ شریف میں آثار قدیمہ کے علاوہ خانوادہ گیلانیہ، بخاریہ کے مزارات اور آستانے بھی ہیں۔ خانقاہ بخاریہ کے احاطے میں مسجد حاجات اور اس کے قریب ہی وہ تنگ و تاریک کنواں ہے جس کے بارے مشہور ہے کہ خواجہ فرید گنج شکرؒ کئی سال تک الٹے لٹک کر یہاں چلہ کشی کرتے رہے اور نماز معکوس ادا کی تھی۔اس کنویں میں چلہ کشی کے دوران جب فرید گنج شکر ؒکے جسم پر ایک کوے نے چونچیں مارنی شروع کیں تو آپؒ نے اپنا مشہور شعر کہا؛
کاواں کرنگ ٹکینریا سب چن کھائیو ماس
ایہہ دو نیناں مت کھائیو اساں ملن دی آس
ترجمہ؛ (کھرنڈ پر چونچیں مارنے والے کوے سارا گوشت چن چن کر کھا لینا۔ ماسوائے میری دو آنکھوں کے جن کو محبوب کے ملنے کی امید ہے۔)
اچ قدیم تاریخی شہر ہے۔اس کی علمی روحانی اور تمدنی اہمیت اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔ یقین نہیں آتا کہ آج کی یہ چھوٹی سی بستی کبھی دس ہزار نفوس پر مشتمل 28 میل طول اور 24 میل عرض کا وسیع شہر تھا۔یہاں کیسے کیسے ہنگامے پلتے اور ابھرتے رہے۔ کیسی داستانیں جنم لیتی رہیں۔ میں یہاں بزرگان اچ کی درگاہوں کے گدی نشینوں سے بھی ملا جو اپنے نیک نام آباؤ اجداد کی ریاضتوں اور مجاہدوں کے صدقے کمال شاہی محلوں اور بلند و بالا ماڑیوں میں فارغ و البال زندگی بسر کر رہے ہیں مگر ان کے روحانی اور علمی ورثہ سے یکسر عاری ہیں۔سادات گیلانی اچ کی لائبیریری میں قلمی کتب کا اچھا خاصا ذخیرہ تھا۔ ان میں سے بعض نایاب اور نادر تھیں۔ سجاد گان بخاریہ کے ہاں بھی کتب تھیں جن میں زیادہ مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے فرمامین اور مکتوبات پر مشتمل ہیں۔ٍ
اُچ کے یہ کھنڈرات یونیسکو وولڈ ہیڑٹیج کا حصہ ہیں۔ میرے لئے یہ بڑی حیرت کن بات تھی کہ ان کھنڈرات اور تباہ شدہ عمارتوں، شکستہ ستونوں اور زمین بوس دیواروں سے ہوتے ان پر کندہ تحریروں کے سامنے آن کھڑا ہوا ہوں جو اس دور کے ممتاز معماروں نے دیواروں پر نقش کر رکھی تھیں۔ ان تحریروں کی کندہ کاری، ناک نقشہ اور نوک پلک اس قدر صاف شفا، تیز اور واضح تھی لگتا تھا جیسے معمار کی چھنی نے ابھی ابھی ٹانکی ہوں۔میں کھنڈر عمارات سے واپس ہوتے اُس دور کے بادشاہوں کی عظمت و سطوت رفتہ کے زمین بوس آثار میری آنکھوں میں گھومتے رہے اور میں سوچتا رہا؛”نام رہنے والی ایک ہی ذات ہے، اللہ کی ذات۔“ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
