عدلیہ کو سیاسی اور حکومتی اثرات سے محفوظ رکھنے کیلیے منظور نظر اور سیاسی جماعتوں کے وکلاء کی بطور جج تعیناتی کے تمام دروازے بند کرنا انتہائی ضروری ہے

مصنف:رانا امیر احمد خاں قسط:272سفارشات برائے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کا طریقہ کار سٹیزن کونسل آف پاکستان لاہور سینئر قانون دانوں اور زندگی

سائنس Jan 9, 2026 IDOPRESS

مصنف:رانا امیر احمد خاں


قسط:272


سفارشات برائے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کا طریقہ کار


سٹیزن کونسل آف پاکستان لاہور سینئر قانون دانوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کی معروف تنظیم ہے جو مختلف قومی مسائل و آئینی امور پر مشاورتی خدمات انجام دیتی ہے۔ سٹیزنز کونسل نے پارلیمانی آئینی کمیٹی کے صدر سینیٹر رضا ربانی کے نام ایک مراسلے میں عدلیہ کے اعلیٰ ججوں کی تقرریوں کے لیے تجاویز بھیجی ہیں۔ یہ تجاویز کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں، سیکرٹری جنرل ظفر علی راجا ایڈووکیٹ اور بیرسٹر محمد رشید بھٹی نے تجاویز ترتیب دی ہیں۔


تجاویز


ہم سول سوسائٹی کے ارکان محسوس کرتے ہیں کہ عدلیہ کو سیاسی اور حکومتی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے منظور نظر اور سیاسی جماعتوں کے وکلاء کی بطور جج تعیناتی کے تمام دروازے بند کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ سیاسی جماعتوں کے وکلاء، وزیر، گورنر اور لاء آفیسرز بننے کے تو اہل ہوتے ہیں لیکن وہ غیر جانبدار منصف اور ججی کے اعلیٰ معیار پر پورا نہیں اتر سکتے جبکہ صرف دیانتدار، لائق اور غیر جانبدار وکلاء جج ہی عدلیہ کی آزادی کے ضامن بن سکتے ہیں جو صحیح معنوں میں پروفیشنل ہوں اور سیاسی لیڈروں کے حاشیہ برداروں میں شامل نہ ہوں۔


آئین میں ججوں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل/ کمیشن کو دیا گیا ہے لہٰذا ججوں کو تعینات کرنے کا اختیار بھی سپریم جوڈیشنل کونسل/ کمیشن یعنی سپریم کورٹ کے 5 سینئر ترین ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کو دیا جائے۔


ہائیکورٹ میں ججوں کی خالی اسامیاں پر کرنے کے لیے چیف جسٹس متعلقہ ہائیکورٹ کے 3 سینئر ترین ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کی باہمی مشاورت کے بعد متوقع ججوں کے ناموں کی حتمی فہرست بنائی جائے نیز ججوں کی تعیناتی کے طریق کار کو سیاسی جماعتوں اور دھڑے بندی کے اثرات سے بچانے کے لیے جوڈیشل کمیشن میں لامنسٹر، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل، پاکستان بار کونسل یا صوبائی بار کونسلوں کے نمائندوں کی نامزدگی ہرگز نہ کی جائے۔ بعدازاں ججی کے لیے نامزد ناموں کو پارلیمانی کمیٹی کے پاس چھان بین کے لیے بھیجا جائے اور ساتھ ہی نامزد ججوں کے احتساب اور 15 روزہ میڈیا ٹرائل کے لیے اوپن کر دیا جائے۔ اس طرح ثابت شدہ حقائق کی روشنی میں بے داغ کردار کی حامل شخصیات کو جج کے عہدہ پر فائز کیا جائے۔


15 روزہ میڈیاٹرائل اور پارلیمانی کمیٹی کی چھان بین کے بعد نامزدگی اور تقرری کا عمل سپریم جوڈیشل کونسل / کمیشن کی جانب سے اگلے 15 دن کے اندر مکمل کیا جائے۔ حکومت کی طرف سے تاخیری حربوں کی صورت میں چیف جسٹس آف پاکستان کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ مقررہ مدت گزر جانے کے بعد نامزد ججوں کی تعیناتی کے احکامات/ نوٹیفکیشن جاری کر سکیں۔


ججوں کو قائم مقام یا ایڈہاک نہیں بلکہ پہلے دن سے مستقل جج کے طور پر تقرری کی جائے البتہ سپریم جوڈیشل کونسل کو اختیار دیا جائے کہ وہ معیار پر پورا نہ اترنے والے ججوں کو ایک سال کے اندر عہدے سے فارغ کر سکے۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں