امریکی کنسلٹنٹس انسپکشن کیلئے آئے، فیلڈ میں جا کر کام کرتے رہے، ہم نے محسوس کیا کہ وہ ہم سے زیادہ جانفشانی سے کام کر رہے ہیں 

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط:82فیلڈ ڈیوٹی کے دَوران امریکیوں کا دورہ اور ہماری پریشانی 1960ء میں امریکن ایڈ کے تحت ”واپڈا“ میں ایک نیا شعبہ گراؤنڈ

سائنس Mar 11, 2026 IDOPRESS

مصنف: ع۔غ۔ جانباز


قسط:82


فیلڈ ڈیوٹی کے دَوران امریکیوں کا دورہ اور ہماری پریشانی


1960ء میں امریکن ایڈ کے تحت ”واپڈا“ میں ایک نیا شعبہ گراؤنڈ واٹر ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (GWDO)کے نام سے بنا اور امریکہ سے سروے سے متعلقہ کافی سازو سازمان جیسے Willey Jeeps (4 wheel Drive)، سوئیل ٹیسٹنگ کٹس، فیلڈ ڈیوٹی کیلئے آفیسر ٹینٹس اور ساتھ ہی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے متعدد سینئر اور جونیئر افسران کا تقرر بھی ہوا اور جولمبو پلان کے تحت لی گئی ایریل فوٹوگرافی سے زمینی فوٹوگراف کے ذریعے سروے کا آغاز ہوگیا۔ مقصد یہ تھا کہ پنجاب میں پتہ چلایا جائے کہ کتنا ایریا "Water Logged" ہوچکا ہے اور کتنا "Salive"ہوکر بنجر ہوچکا ہے اور مزید یہ کہ زیر زمین پانی کی سطح کس جگہ کہاں پر ہے؟ اس طرح تقریباً 10 فیلڈ پارٹیز کے ذریعے اِس سروے کا آغاز کردیا گیا۔ فیلڈ پارٹیز عام طور پر محکمہ نہر کے ریسٹ ہاؤسز میں قیام کر کے فیلڈ ڈیوٹی انجام دیتیں۔ اس طرح غالباً چار پانچ سال کام جاری و ساری رہا۔ پھر ایک دفعہ کچھ امریکی کنسلٹنٹس جن کی سربراہی ایک امریکی "Mr. Burt Son" کر رہے تھے، ہمارے پاس پنجاب میں ایک ریسٹ ہاؤس میں انسپکشن کے لیے آئے۔ اُنہوں نے دو تین دن وہاں قیام کیا اور ہمارے ساتھ فیلڈ میں جا کر کام کرتے رہے۔ اِس دوران ہم نے محسوس کیا کہ وہ ہم سے زیادہ جانفشانی سے کام کر رہے ہیں، گو کہ ہماری بھی فیلڈ ڈیوٹی بڑی ہی مُشقت طلب تھی۔


صبح ملاقات ریسٹ ہاؤس کے سنٹر ٹیبل پر ہوتی، جہاں پراٹھے، آملیٹ، چکن کے سالن اور سبزی کا سالن اور ساتھ کبھی جیم ڈبل روٹی بھی شامل ہوتی اور بعد میں چائے کادَور چلتا۔ فیلڈ ڈیوٹی پر جانے والے ایک بھرپور ناشتہ کرتے ہیں کہ یہ ایک مُشقت طلب کام ہے۔ ہم دیکھتے کہ ہمارے ساتھ بیٹھے امریکن بالکل ہی بے توجہی سے ناشتہ میں حصّہ لیتے۔ لیکن تھوڑا تھوڑا سا حصّہ ڈال کر بیٹھ جاتے۔


ہم فیلڈ افسران اکثر آپس میں یہ بات کرتے نظر آتے کہ فیلڈ میں تو ہم سے بھی زیادہ جان ماری کرتے ہیں، تیز چلتے ہیں، لیکن کھانا بالکل ہی کم کھاتے ہیں تو اِس طرح تو انہیں کمزوری لاحق ہوجانی چاہیے۔ لیکن اِس سلسلے میں کوئی آثار دکھائی نہ دئیے۔


آخر اُن کی روانگی کا وقت ہوا اور وہ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر چل دئیے اور ہم آرام سے بیٹھ کر گپ شپ لگانے لگے۔ ہمارے ایک ساتھی کا جو اُس دوسرے بیڈ میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے تو پتہ چلا وہاں تو ایک بڑا انبار خالی "Tins" کا لگا ہوا ہے۔ تو ہماری سمجھ میں یہ بات آئی کہ ہم یوُنہی پریشان تھے۔ وہ بیڈ سے ہی کھا پی کر آتے تھے۔


ایک منفرد تیتر کا شکار


1960ء کی دہائی ”واپڈا میں امریکن ایڈ سے بنی گراؤنڈ واٹر ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے تحت ہمارا دُور دراز علاقوں میں سوئل سروے کرتے دن میں گرمی ہو کہ سردی دس بارہ میل پیدل، لیبر کے ساتھ چل کر زمینی تحقیق کرنا ہوتی تھی۔ مطلب یہ کہ ابتدائی میری نوکری کے 12 سال ”رانجن“ کی طرح دیکھنے، سننے، ویسے جھیلنے کو مشکل مشکل سے محسوس ہوں گے لیکن یاد رکھیں ّ بھرپور جوانی ہو، کوئی فکر و فاقہ نہ ہو۔ یہ گرمیوں کی جُھلستی لوئیں یہ جاڑوں کی ِٹھٹھرتی صبحیں بھی اِن دنوں ایک انجانا سا کیف و سرور مہیّا کرتی تھیں۔ (جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں