واشنگٹن /تل ابیب ( مانیٹرنگ ڈیسک ) صرف ٹرمپ ہی’’ دعا‘‘ نہیں کروا رہے نیتن یاہو بھی ’’ مذہبی ٹچ‘‘

واشنگٹن /تل ابیب ( مانیٹرنگ ڈیسک ) صرف ٹرمپ ہی’’ دعا‘‘ نہیں کروا رہے نیتن یاہو بھی ’’ مذہبی ٹچ‘‘ دے رہے ہیں ، عالمی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ۔
’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق ایران پر حملے کو امریکہ اور اسرائیل مذہبی جنگ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، صرف ٹرمپ ہی ایونجلیک مسیحیوں سے غیر معمولی دعا نہیں کروا رہے بلکہ نیتن یاہو بھی غزہ جنگ سے اب تک مسلسل مذہبی ٹچ دے رہے ہیں ، ماہرین کہتے ہیں جب جنگ کو مقدس اصطلاحات میں بیان کیا جائے تو سیاسی سمجھوتہ مشکل ہوجاتا ہے۔
اب امریکی فوج میں دعوے سامنے آئے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو روحانی طور پر منتخب کیا گیا ہے اور فوجیوں کو مذہبی تقریبات اور دعاؤں کے ذریعے حوصلہ دیا جا رہا ہے۔
نیتن یاہو نے بھی بائبل میں دشمن عمالیق کا ذکر کرکے عوام میں’’ہم بمقابلہ وہ‘‘ کے جذبات کو مضبوط کیا ہے۔
امریکی میڈیا پر بھی تضادات اور دوہرے معیار جیسے موضوعات پر بحث جاری ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی بیانیہ عوام کی حمایت جیت سکتا ہے لیکن سیاسی سمجھوتے اور امن کے امکانات کو محدود بھی کر دیتا ہے۔
