نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت میں ایک اہم عدالتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے 13 سال سے کومے میں زندگی گزارنے والے نوجوان کو لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت دے

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت میں ایک اہم عدالتی فیصلے میں سپریم کورٹ نے 13 سال سے کومے میں زندگی گزارنے والے نوجوان کو لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت دے دی۔
عدالت نے ہرش رانا نامی 31 سالہ شخص کے والدین کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریض کی حالت میں بہتری کی کوئی امید نہیں، اس لیے انسانی وقار کو مدِنظر رکھتے ہوئے لائف سپورٹ واپس لیا جا سکتا ہے۔
عدالت کا یہ فیصلہ جسٹس جے بی پردیوالا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بینچ نے سنایا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لائف سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ دو بنیادوں پر ہونا چاہیے کہ علاج کو طبی مداخلت تصور کیا جائے اور یہ فیصلہ مریض کے بہترین مفاد میں ہو۔
اس کے بعد سے وہ بستر تک محدود رہے، سانس لینے کے لیے ٹریکیوسٹومی ٹیوب اور خوراک کے لیے فیڈنگ ٹیوب پر انحصار کرتے رہے۔
