
ملتان (ڈیلی پاکستان آن لائن)ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا معطلی پاکستان اور بھارت دونوں کیلئے موسمیاتی خطرات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے کیونکہ یہ معاہدہ سیلاب، خشک سالی اور آبی تحفظ کے حوالے سے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا شیئرنگ اور پیشگی انتباہی نظام کا ایک اہم فریم ورک ہے۔
تفصیلات کے مطابق بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے ماہرین اور اساتذہ نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ایسے خطے میں مربوط آبی نظم و نسق کیلئے ایک اہم حفاظتی ڈھانچہ ہے جو پہلے ہی شدید موسمیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ معاہدے میں کسی فریق کے یکطرفہ انخلا کی کوئی شق موجود نہیں، اس لئے پاکستان، بھارت یا عالمی بینک میں سے کوئی بھی یکطرفہ طور پر اس سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدے میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی سے اس کی افادیت کمزور پڑ سکتی ہے اور جنوبی ایشیا ءمیں وسائل پر تنازعات کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
