جانا خیالوں سے باہر آکر باتیں کررہا تھا،جینوچھپرمیں داخل ہوئی تو باپ ایک کونے میں چارپائی پر لیٹا ہوا تھا،چھپر کے اندر اندھیرے میں ہلکی ہلکی روشنی پھیل رہی تھی

مصنف:مہر غلام فرید کاٹھیا قسط:4جانّا اب خیالوں سے باہر آکر باتیں کررہا تھا۔۔۔بھایا ادھر آؤذرا گائے تنگ کر رہی ہے۔ جینو جو اسی وقت گائے کو دوہنے کی کوشش

بڑا ڈیٹا Apr 30, 2026 IDOPRESS

مصنف:مہر غلام فرید کاٹھیا


قسط:4


جانّا اب خیالوں سے باہر آکر باتیں کررہا تھا۔۔۔بھایا ادھر آؤذرا گائے تنگ کر رہی ہے۔ جینو جو اسی وقت گائے کو دوہنے کی کوشش کر رہی تھی اور گائے کچھ ناراضی کا اظہار کر رہی تھی۔ جینو کو بھائی کی ضرورت پڑ گئی۔”کیا ہوا؟“جانّے نے آگے سے جواب دیا۔”گائے تنگ کررہی ہے۔ میں دودھ دوہ رہی ہوں اور گائے ایک جگہ ٹکتی ہی نہیں۔ ہاتھ لگاتی ہوں تو ادھر ادھر بھاگنے لگتی ہے۔ ذرا اسے پکڑ رکھو“


جانّے بھاگتا ہواباڑے میں گیا جو پاس ہی تھا بلکہ تقریباًباڑہ بھی وہی تھا اور گھر بھی وہی تھا۔ جانّے نے گائے کے پاس پہنچ کر اسے رسی سے مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیا۔ گائے کے گلے کی رسی جب جانّے کے ہاتھ میں آئی تو پھر گائے کی کیا مجال تھی کہ ہل جل جائے اور پھر جینو نے بڑے آرام سے دودھ تھوڑی ہی دیر میں دوہ لیا اور دودھ کا کٹورا بھائی کو پکڑا دیا۔ پھر کلے سے جکڑی بچھڑی کی رسی بھی کھول دی تاکہ بچا کھچا دودھ جو رہا ہو گا بچھڑی اس کو چوس لے۔ جب تک بچھڑی کو ماں کے دودھ سے کچھ دھاریں ملتی رہیں وہ ماں سے چمٹی رہی اور جب دودھ ختم ہوگیا تو خود ہی علےٰحدہ ہو گئی پھر جینو نے اسے پکڑا۔اس کے کلے کے پاس لے گئی اور وہیں پر ایک کھونٹے کے ساتھ اسی رسی کے ساتھ جو کہ اس کے گلے میں کسی نے ڈال دی ہوگی سے بچھڑی کو دوبارہ کس کے باندھ دیا۔


جینو نے گائے کی کُھرلی میں ہاتھ مار مار کر کھرلی کے اندر بچے کھچے چارے کو کھرلی میں گائے کے آگے اکٹھا کر دیا۔ اور خود چھپر میں چلی گئی۔


جینوچھپرمیں داخل ہوئی تو اس کا باپ ایک کونے میں پڑی چارپائی پر لیٹا ہوا تھا۔ جانّینے سرسوں کے تیل کا دیا جلا دیا تھا اور چھپر کے اندر اندھیرے میں ہلکی ہلکی روشنی پھیل رہی تھی۔


”بابا کھانا لاؤں“جینو نے داخل ہوتے ہی پوچھا مگر حسین نے جواب دیا


”جانّا دودھ کا برتن رکھ کر کہیں نکل گیا ہے، آتا ہی ہوگا، پھر مل کر کھانا کھائیں گے۔“


”نہیں بابا جانّا کہیں دوستوں میں بیٹھ گیا تو دیر سے آئے گا تم کھانا کھا لو میں ابھی لاتی ہوں۔“


اور وہ بھاگ کر دوسرے چھپر سے کھانا لینے چلی گئی۔کچھ ہی دیر میں وہ روٹیاں چنگیر میں رکھ کر لے آئی اور ساتھ ہی دودھ کا ایک منگربھر کر بابا کے آگے رکھ دیا۔ بابا اٹھ کر بیٹھ گیا اور بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کردیا۔ جینو پاس بیٹھی اپنے بابا کے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی۔جب کھانا ختم ہوا تو وہ برتن اٹھا کر دوسرے چھپر میں چلی گئی۔ ”جنیو دھیے۔ ذرا برتن رکھ کر میرے پاس آنا“اور جینو چند ہی لمحوں میں واپس باپ کے پاس آن پہنچی۔ حسین چارپائی پر لیٹا ہوا تھا۔ جینو نے آتے ہی لیٹے ہوئے باپ کا سر دبانا شرو ع کر دیا۔ حسین نے کہا


”بیٹا کئی دنوں سے رات کے وقت میرا سر دُکھنے لگ جاتا ہے تمہیں میں نے اسی لئے بلایا ہے۔“


باپ بیٹی دیر تک باتیں بھی کرتے رہے اور جینو باپ کا سر بھی دباتی رہی۔ جب جانّا دیر تک گھر نہ پہنچا تو حسین چارپائی پر اٹھ کر بیٹھ گیا اور فکر مند ہوتے ہوئے جینو سے کہنے لگا۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں