
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سسٹم کے مرکزی کرداروں کی جانب سے ناکامی کا اعتراف کافی نہیں بلکہ اس نظام کو درست بھی کرنا ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے’’ ادارہ نورحق ‘‘میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سسٹم کے مرکزی کرداروں کی جانب سے صرف سسٹم کی ناکامی کا اعتراف کافی نہیں، اسے درست بھی کرنا ہوگا۔ ملک میں سسٹم کی نااہلی اور ناکامی کی تازہ مثال کراچی کے بلدیاتی انتخابات و عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا اور گزشتہ عام انتخابات ہیں۔ آئین کو مقدم رکھنے سے ملک کے تمام مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔موجودہ حکومت نے ایک سال میں 1900 ارب روپے پیٹرولیم لیوی وصول کرکے تمام حدیں پار کردی ہیں۔ نظام کی نااہلی اور کرپشن کا بوجھ پاکستان کا ہر غریب شہری اٹھا رہا ہے۔پیٹرولیم لیوی کا عذاب پوری قوم بھگت رہی ہے،پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف ملک بھر میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر منظم احتجاج کیا، سیکڑوں مقامات پر ایمبولینسوں کو منظم انداز میں راستہ دیا گیا۔ 16 اگست کو بیک وقت کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہاؤسز جبکہ لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے کارکنان جماعت اسلامی کے احتجاج میں شرکت کریں،پرامن سیاسی مزاحمت وقت کی ضرورت ہے۔ایف بی آر میں تقریباً 25 ہزار افراد کام کرتے ہیں، سیکڑوں افسران کو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں اور مفت پیٹرول کی سہولت حاصل ہے، اس کے باوجود ٹیکس اہداف پورے نہیں کیے جاتے۔ موجودہ حکومت عوام کی حقیقی رائے کے بجائے فارم 47کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کو 15 جبکہ پیپلز پارٹی کو 7نشستیں دی گئیں، جو انتخابی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔عوام کی رائے اور آئین کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی یونٹس بنانے کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔
