
مصنف:مہر غلام فرید کاٹھیا
قسط:31
مینجمنٹ نے دونوں پارٹیوں کی میٹنگ ایک چھوٹے سائز کے کانفرنس روم میں رکھی تھی جہاں پروجیکٹر اور سکریننگ کا مکمل انتظام تھا۔ چنانچہ مس شانتی نے سکرین پر چلتی سلائیڈز کے ذریعے اپنی جیوٹ فیکٹری اور اس میں پیداوار کے مختلف مراحل کو بڑے سلیقے سے سمجھایا۔ مسٹر پیرزادہ پراجیکٹ پروفیشنل تھے۔
سردار قاسم سامنے بیٹھی بریفنگ دیتی مس شانتی کے لب و لہجہ پر غور کرتا رہا وہ سکرین پر متوجہ تھا مگر مس شانتی کے منہ سے نکلے الفاظ ان کے تلفظ اور معاملات کی تفاصیل پر بھی غور کرتا رہا۔
بریفنگ ختم ہونے پر مسٹر شیام سردار صاحب کو لے کر ہوٹل کے بربزئیر میں چلے گئے اور باقی معاملات دونوں ٹیموں کے سپرد کر گئے۔
فریقین کے درمیان کوئی 1 گھنٹہ مذاکرات رہے ہونگے جس کے بعد وہ مین (main)ہال میں آئے اور دونوں Bossesکو اپنے باہر آنے کی اطلاع دی۔ دونوں Bossesنے ان سب کو ڈائننگ ہال میں بُلا لیا جہاں انتظامیہ نے کھانا لگا دیا تھا۔ دوپہر کا کھانا تھا جو قدرے لیٹ ہوگیا تھا۔
اس دوران میڈم روزی اور مس شانتی دونوں نے Bossesکو اطلاع دی کہ معاہدے کے بنیادی اصول طے کر لئے گئے ہیں اور تفصیلات اور معاہدہ Signکرنے کے لئے اگلے مہینے کی کسی تاریخ کو چٹا گانگ میں میٹنگ رکھیں گے۔
لنچ کے بعد مسٹر شیام اپنے آفس مینجر کے ساتھ ہوٹل سے چلے گئے۔ چونکہ سردار قاسم اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ بھی اپنے سوئٹ میں چلے گئے۔ وہ جاتے جاتے میڈم روزی کو کراچی کیلئے ائیر بکنگ کی تاکید کرگئے۔ میڈم روزی نے فلور کاؤنٹر پر سے ہی پالم کے ہوئی اڈے پر فون کرکے فلائٹس کا پتہ کیا۔ اسے معلوم ہوا کہ کراچی جانے کے لئے فلائٹ اگلے دن 11بجے قبل از دوپہر روانہ ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے وہیں سے کاؤنٹر پر کھڑے کھڑے اگلے دن کی کراچی کے لئے پرواز میں اپنی 3 سیٹیں کنفرم کروا لیں جس کی اطلاع انہوں نے انٹر فون پر سردار قاسم کو بھی دے دی۔
اپنے کام سے فارغ ہوکر میڈم روزی ہوٹل کے بریز ئیر میں پہنچی تو مس ڈیانا اکیلی نہیں تھی۔ مس شانتی اور مسٹر جلال بھی اس کے پاس موجود تھے۔ میڈم روزی کو آتے دیکھ کر سب کھڑے ہوگئے جس پر میڈم روزی نے ممنون ہوتے ہوئے اس تکریم کا شکریہ ادا کیا اور سب کو بیٹھ جانے کی تلقین کی۔ میڈم روزی ڈیانا کے ساتھ والی سیٹ پر آکر بیٹھ گئیں۔
”مسٹر جلال سردار صاحب سے ایک Exclusiveملاقات چاہتے ہیں“مس ڈیانا نے میڈم روزی کے بیٹھ جانے پر ان کے گوش گزارکیا۔
میڈم نے جلال صاحب سے براہ راست مخاطب ہو کر کہا۔
”میں سردار صاحب کے بارے میں تما م کوائف اور معاملات کے متعلق آپ کو پہلے ہی بریف کر چکی ہوں۔ اب مزید ملاقات کی ضرورت کیا“
”ہم فقطunderstandingمیں اضافہ کرنا چاہتے ہیں دونوں میسرز کے درمیان“جلال نے کہا۔ اس نے مزید گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مسٹر شیام تو چٹا گانگ روانہ ہوچکے ہیں ورنہ ان کا رات ڈنر پر بھی سردار صاحب کے ساتھ ملاقات کا ارادہ تھا۔ میڈم روزی نے سوچتے ہوئے پوچھا۔
”اگر وہ رات ڈنر بھی سردار صاحب کے ساتھ کرنا چاہتے تھے تو وہ پھر چلے کیوں گئے۔“
”اُنہیں سری لنکا کی ایک پارٹی کے چٹا گانگ پہنچنے کی اطلاع ملی تھی جو آج رات ہی وہاں پہنچ رہی تھی،چنانچہ انہیں جانا پڑا۔“جلال نے وضاحت کردی۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
