رئیس انسان کا اتنی خوبیوں کا مالک ہونا خود میں بڑا کمال تھا، جتنا اللہ نے انہیں دولت سے نوازا تھا یہ اتنے ہی مٹے ہوئے اور بچھے ہوئے انسان تھے

مصنف:شہزاد احمد حمیدقسط:506انکل دلاور سے چوہدری اکرم تک؛انکل دلاور میرے دوست نعیم چوہدری کے والد انکل اسلم کے یار تھے۔ یہ ہر دلعزیز انسان کنیڈین نیشنیلٹی

عی Apr 23, 2026 IDOPRESS

مصنف:شہزاد احمد حمید


قسط:506


انکل دلاور سے چوہدری اکرم تک؛


انکل دلاور میرے دوست نعیم چوہدری کے والد انکل اسلم کے یار تھے۔ یہ ہر دلعزیز انسان کنیڈین نیشنیلٹی رکھتے تھے۔انہوں نے کھاریاں میں پیزا ریسٹورنٹ شروع کیا۔ نعیم ایک دن مجھے ان کے پاس لے گیا اور پھر انکل دلاور میرے بھی انکل بن گئے بلکہ انکل سے زیادہ دوست۔انکل دلاور ایک روزمیرے دفتر آ ئے تو ان کے ساتھ دو اور صاحب چوہدری اکرم اور حاجی آ فتا ب بھی تھے۔یہ دونوں بھی انکل اسلم کے دوست تھے۔ تعارف ہوا اور پھر میرے لئے یہ دونوں حضرات بھی قابل احترام ہو گئے۔ چوہدری اکرم تو کمال انسان تھے۔ سادے، مخلص، روادار، نمازی، پرھیز گار اور رئیس۔ ایک رئیس انسان کا اتنی خوبیوں کا مالک ہونا خود میں بڑا کمال تھا۔ جتنا اللہ نے انہیں دولت سے نوازا تھا یہ اتنے ہی مٹے ہوئے اور بچھے ہوئے انسان تھے۔ دریائے چناب کے وزیر آ باد والے کنارے واقع ریسٹورنٹ کے مالک۔ جلد ہی ان سے بڑی بے تکلفی ہو گئی۔اکثر میں ان کا مہمان ہوتا اور کبھی وہ حاجی آفتاب کے ہمراہ میرے پاس اکیڈمی چلے آ تے۔ یہ اکثر کہتے ”آپ سے مل کر بڑا سکون ملتا ہے کیوں نہ آپ میرے پاس ہی شفٹ ہو جائیں۔ آپ کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی دوں گا۔“نین اور میں نے کئی بار یہاں مختصر قیام کیا تھا۔ افسوس چوہدری اکرم 2022ء ستمبر میں اس جہاں فانی سے رخصت ہوئے اور پیچھے اپنی شاندار یادوں کا خزانہ چھوڑ گئے ہیں۔اللہ نے اس نیک روح کو اپنے ہاں بلند درجہ دیا ہو گا۔حاجی آ فتاب سے کبھی کبھار بات ہو جاتی ہے۔


رات کاچوکیدار۔۔ ہمارا نمبر دار؛


پسوال گاؤں کا رہنے والاخالد اکیڈمی کاچوکیدار تھا۔ اس کی ڈیوٹی عموماً رات کی ہوتی تھی اور پھر یہ میرا اور قاری کا ”نمبر دار“بن گیا۔خوش مزاج اور تابع دار۔ ایک سردرات ساڑھے دس بجے کے قریب میں نمبر دار کے ساتھ کیمپس کے راؤنڈ پر نکلا۔ مرکزی گیٹ پر دو گارڈز ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔ ایک سکیورٹی کمپنی کا دوسرا ا کیڈمی کا چوکیدار۔ ان کے پاس ایک پمپ ایکشن بارہ بور کی گن ہوتی تھی۔ مین گیٹ کے ساتھ ان کی ہٹ(Hut)میں گیا تو دونوں خواب خرگوش تھے۔ گیس ہیٹر چل رہا تھا اور گارڈ روم باہر کی شدید ٹھنڈ کے باوجود سردی نام سے واقف نہ تھا۔نمبر دار کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ ان کی گن اٹھائی اور گارڈ روم کے باہر رکھ کر انہیں سوتا دیکھتے رہے۔ وہ گھوڑے بیچ کے سو رہے تھے۔ دنیا و مافیا سے بے خبر۔ کچھ دیر بعد انہیں نیند سے بیدار کیا وہ مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے۔میں نے ان سے پو چھا؛”بیٹا! کوئی بندوق وغیرہ بھی ہے یا بس یو نہی ڈنڈا لئے بیٹھے ہو۔“ سکیورٹی کمپنی کاگارڈ بولا؛”جی سر! بارہ بور گن ہے۔“ میں نے کہا؛”دکھاؤ۔“ ادھر ادھر ڈھونڈنے لگا۔ گن وہاں ہو تی تو ملتی۔میں نے کہا؛”کہاں ہے بندوق“ بولا؛”سر! یہاں ہی رکھی تھی۔“ میں نے ان کی سخت سرزنش کی۔نمبر دار سے کہا؛”جاؤ ان کی بندوق لے آؤ۔“ انہیں سمجھایا۔ سونا ہے تو ایک بندہ سوئے اور دوسرا جاگ کر ڈیوٹی دے۔ اگلے دن سے میں نے تو روٹین بنا لی کہ روز رات دس گیارہ بجے کے قریب راؤنڈ لیتا۔ ڈنڈا بردار خالد میرے ساتھ ہو تا تھا۔ کیمپس سیکیورٹی کے نچارج طارق شیخ کو ہدایت کی کہ وہ بھی روز راؤنڈ لگایا کریں اور کمپنی کو گارڈ کی غیر ذمہ داری کی شکایت کریں۔ کمپنی نے گارڈ تبدیل کر دیا اور طارق شیخ بھی پہلے کی نسبت کچھ چوکنے ہو گئے تھے۔


اکیڈمی میں گنتی کا پچیس تیس کا سٹاف ہو گا اور کچھ اہل کاروں نے یونین بنانے کی کوشش کی۔ نمبردار نے مجھے اس کی اطلاع کر دی۔اس سر گرمی کا ماسٹر مائینڈ ہمارے سینئر مرحوم اصغر کا بیٹا حامد تھا جو کچھ ماہ پہلے میری سفارش پر ہی ڈپیوٹیشن پر ا کیڈمی پوسٹ ہوا تھا۔ یہ کچھ کا لی بھیڑوں کو ساتھ ملا یونین بنانے کے چکر میں تھا۔ ایک تگڑی ڈوز نے اس کے اندر یونین بنانے کا کیڑے کو ہمیشہ کے لئے مار دیا تھا۔ بعد میں حامد کو فالج ہو گیا۔ اللہ اسے صحت عطا کرے۔ آمین۔ (جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں