تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران کی ایک عدالت نے بدھ کو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دی ہے۔ بی بی سی اردو کے

تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران کی ایک عدالت نے بدھ کو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دی ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص حساس سرکاری ادارے کی پیسِیو ڈیفنس کمیٹی میں کام کرتا تھا اور اس کے موساد کے ایک افسر سے وسیع روابط تھے۔
منگل کو بھی ایران نے جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے متعلق ایک اور شخص کو پھانسی دی تھی۔ اس شخص پر بھی موساد سے روابط رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
تنازع کے آغاز کے بعد سے ایران اب تک ایک درجن سے زائد افراد کو پھانسی دے چکا ہے۔ بعض افراد پر اسرائیل کے لیے جاسوسی، کچھ پر جلا وطن اپوزیشن گروپ مجاہدینِ خلق تنظیم سے وابستگی جبکہ دیگر پر جنوری کے ہنگاموں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ادھر منگل کو ایران کی عدلیہ نے ان خبروں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ آٹھ خواتین کو جلد پھانسی دی جائے گی۔ یہ تردید اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
عدلیہ کے زیر انتظام میزان نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو ’جعلی خبروں‘ کے ذریعے گمراہ کیا گیا جو ’دشمن‘ میڈیا نے پھیلائیں۔ ایجنسی کے مطابق ان خواتین میں سے کئی کو پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر کو ایسے الزامات کا سامنا ہے جن کی سزا موت نہیں ہے۔
