اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن  کا ممبرشپ کارڈ  

تحریر:  طاہر منیر طاہر ( دبئی) حکومت پاکستان  کی طرف سے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) کا قیام 8 جولائی 1979 کو ایمگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت

عی Apr 24, 2026 IDOPRESS

تحریر: طاہر منیر طاہر ( دبئی)

حکومت پاکستان کی طرف سے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) کا قیام 8 جولائی 1979 کو ایمگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت پاکستانی تارکین وطن اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کے تحت ایک غیر منافع بخش تنظیم کے طور پر کام کرتا ہے-


اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) نے ممبرشپ کارڈ متعارف کروایا ہے جس کے تحت ممبران اور ان کے خاندانوں کے لیے 20 لاکھ روپے تک کا حادثاتی بیمہ، ہاؤسنگ اسکیموں میں ترجیح، اور تعلیم، صحت کی دیکھ بھال جیسی سہولیات میسر ہیں۔ یہ کارڈ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے پاکستان میں خدمات کی سہولت فراہم کرتا ہے جس میں OPF اسکولوں میں بچوں کے لیے 50% فیس معافی اور خصوصی وظائف کی سہولت شامل ہے-


وہ لوگ جو او پی ایف ممبرشپ کارڈ رکھتے ہیں انہیں حادثاتی موت یا معذوری کی کوریج دو ملین پاکستانی روپے تک حاصل ہے ، جبکہ ہوٹلوں، تشخیصی مراکز، ہسپتالوں اور فارمیسیوں میں اراکین اور ان کے خاندانوں کے لیے سہولیات دستیاب ہیں-او پی ایف OPF کے زیر اہتمام چلنے والے تعلیمی اداروں میں 4 بچوں تک کے لیے فیس میں 50فیصد رعایت، نیز میڈیکل، آئی ٹی، اور انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف کا حصول شامل ہے- کارڈ ہولڈرز کے لئے او پی ایف ہاؤسنگ اسکیموں تک ترجیحی رسائی، غیر ملکیوں کے لیے خصوصی مراعات، بشمول حکومت کے فلاحی اقدامات میں ترجیح، جیسا کہ لیپ ٹاپ اور اسکوٹر وغیرہ شامل ہیں- جامع تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے اس کے فوائد شریک حیات اور بچوں تک پہنچائے جاتے ہیں جبکہ ممبر کے بیرون ملک قیام کے دوران اور پاکستان واپس آنے کے بعد 3 سال تک کار آمد ہے-


یہ کارڈ پروٹیکٹوریٹ آف امیگرنٹس کے ساتھ رجسٹر ہونے والوں کے لیے بغیر فیس کے حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ اضافی پریمیم خصوصیات کے لیے پاکستانی چھ ہزار روپے درکار ہو سکتے ہیں- بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے جو پروٹیکٹوریٹ میں رجسٹرڈ نہیں ہیں،وہ فیس ادا کر کہ یہ کارڈ حاصل کرسکتے ہیں جبکہ حصول کارڈ کے لیے درخواستیں OPF ویب پورٹل کے ذریعے یا میزبان ملک میں پاکستانی سفارت خانے/قونصل خانے کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہیں۔


وہ تمام پاکستانی جنہوں نے 23 مارچ 1979 کے بعد پروٹیکٹوریٹ آف امیگرنٹس، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BE&OE) یا اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC) کے ذریعے درست اور محفوظ ورک ویزوں پر بیرون ملک سفر کیا وہ خود بخود OPF میں رجسٹرڈ ہیں اور خود کو OPF کی خدمات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


بیرون ملک مقیم پاکستانی جو OPF کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ صرف دس ہزار پاکستانی روپے کی یک وقتی رکنیت فیس ادا کر کے رضاکارانہ طور پر رجسٹر ہو سکتے ہیں، اس طرح وہ OPF کی طرف سے پیش کردہ فوائد اور خدمات کی وسیع رینج تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں