
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط:108
مجھے 1990ء میں پہلی دفعہ آئی میکس دیکھنے کا اتفاق،امریکہ میں ہوا۔ اس وقت یہ وہاں نیا نیا متعارف ہوا تھا۔ مگر اب اس کو لاہور میں آئے ہوئے بھی 10برس سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے اور ہم لوگ اکثر یہاں فلم دیکھنے چلے جاتے ہیں۔
حصہ چہارم(فلم بینی میں جدید تکنیک)
باب1 (جدید سینما بینی)
سینما بینی کے نئے تجربات
دورِ جدید میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا فلم سازی اور فلم بینی کا نظامIMAX ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ انسانی فطرت کے مطابق خوب سے خوب تر کی تلاش میں نت نئے تجربات کئے جاتے رہے اور سینما بینی کو حقیقت کے قریب تر لانے کی جہدِ مسلسل جاری رہی۔ اس سلسلے میں بعض اوقات تو سائنسدان اور سینما ٹیکنیشن تحقیق میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ یوں لگا جیسے فلم اور حقیقت میں صرف ایک آنچ کی کسر باقی رہ گئی ہے۔ اس سلسلے میں کہیں تو روایتی اور سادہ فلم سازی کا رخ موڑ کر اور کمپیوٹر اور سائنس کی مدد لے کر فلم بندی کے نئے نئے انداز آزمائے گئے اور کسی جگہ پروجیکشن اور سینما ہال میں کچھ ایسی تبدیلیاں کی گئیں جو لمحے بھر کے لیے انسان کو فلم کی خیالی دنیا سے نکال کر حقیقی دنیا میں لا کھڑا کر دیتی ہیں اور تماشائی اپنے آپ کو فلم کا حقیقی کردار سمجھنے لگتے ہیں۔ اس باب میں ہم اس جدید سینما ٹیکنالوجی کا جائزہ لیں گے جو پچھلے چند برسوں میں متعارف ہوئی ہے اور عوام میں بیحد مقبول ہوئی ہیں۔
فور ڈی ایکس سینما (4DX Cinema)
ابھی تک ہم نے 2Dاور 3Dفلموں کے بارے میں بات کی ہے۔ حالانکہ 3D قدرتی مناظر کے بہت قریب تر ہے۔ یعنی آپ خودکو اس منظر میں حصہ دار تصور کرتے ہیں،لیکن سائنس دان اس سے مطمئن نہیں تھے، وہ چاہتے تھے کہ فلم بینی کی تکنیک کو اس حد تک آگے لے جائیں کہ تماشائی نہ صرف انسانی آنکھ کی طرح کسی بھی منظر کو ہر طرف سے دیکھ پائیں، بلکہ کسی طرح ان کے ذہن اور دوسرے حواس کو بھی اپنے قابو میں لا کر ان کو گھیر گھار کر ایسی دنیا میں لے جائیں کہ جہاں ان کو حقیقت کا گمان ہو اور وہ یہ سب کچھ دیکھ اور محسوس کر رہے ہوں۔ لہٰذا مسلسل تجربے اور تحقیق کے بعد 4DXسینما معرضِ وجود میں آیا۔ اس میں انہوں نے کمال مہارت سے کمپیوٹر کو استعمال کرتے ہوئے سینما ہال اور اس کی نشستوں کے علاوہ بصری، صوتی اور روشنی کے نظام کو فلم کے ساتھ باہم مربوط کر کے اس کی ڈور کمپیوٹر کے ہاتھ میں تھما دی جو اس پر سلطان بن کر بیٹھ گیا ہے اور اب یہ سب کچھ اس کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق ہی ہوتا ہے۔ سینما آپریٹر بے بسی سے پروجیکشن روم کے کونے میں بیٹھا یہ تماشہ دیکھتا رہتا ہے وہ بس فلم چلا دیتا ہے ہے باقی جو ہال میں ہوتا ہے وہ کسی اور ہی دنیا کے لوگ کرتے ہیں یہ ایک بہت ہی دلچسپ اور مزیدار صورت حال ہے۔ آئیں اس کو ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
