
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے مطابق اقدامات اٹھائے ہیں،خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی عملداری ختم ہو چکی تھی۔
اسلام آباد میں غیرملکی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دنیا گواہ ہے پاکستان نے بہادری سے دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑی،پاکستانی قوم نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بہادری کی مثالیں قائم کیں، دہشتگردی کے خلاف کوششیں آج بھی جاری ہیں۔
ان کاکہناتھا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا مقابلہ کررہا ہے،آرٹیکل 232ااور234کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی گئی،خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانا وفاقی کابینہ کا متفقہ فیصلہ تھا،صدر مملکت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا اعلان کیا۔
وزیر اطلاعات کاکہناتھا کہ پی ٹی آئی مارچ دہشتگرد تنظیموں سے رابطہ کاری کے بعد محفوط راستے سے گزرا، دہشتگردوں کے زیراثر علاقوں سے سیاسی نمائندوں کو گزرنے کی اجازت نہیں،این ایف سی کے ذریعے خیبرپختونخو احکومت کو تقریباً800ارب روپے دیئے گئے۔اتنی بڑی رقم سی ٹی ڈی کے قیام پر کیوں خرچ نہیں کی گئی؟خیبرپختونخوا میں سیف سٹی کیمرے لگانے پر رقم کیوں خرچ نہیں ہوئی؟انتہاپسندی کے خلاف موثر بیانیے پر رقم کیوں خرچ نہیں کی گئی ؟خیبرپختونخوا میں سیاست، دہشتگردی اور جرائم کے درمیان گٹھ جوڑ تھا۔
