
جموں (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول کے پار لے گیا جسے سیکیورٹی فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی رہائشی ارم بانو سے ملاقات کی خواہش نے اسے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی حساس اور خطرناک سرحد تک پہنچا دیا تاہم دونوں کو اس ملاقات کی قیمت دونوں کو حراست کی صورت میں چکانا پڑی۔
بتایاگیا ہے کہ مظفر آباد آزاد کشمیر کے ایک گاؤں کے نوجوان ذیشان کو بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں گرفتار کر لیا تھا، اس کے پاس کوئی سفری دستاویزات نہیں تھیں۔ اس کے ساتھ تحقیقات کے بعد بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے گاؤں تلاواڑی سلی کوٹ کی لڑکی کو بھی گرفتار کر لیا جس سے ملنے کے لئے ذیشان نے لائن آف کنٹرول پار کی تھی۔
پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔پاکستان قونصلر رسائی کے بعد ذیشان میر کی شناخت کر سکتا ہے اور اس کی رہائی کے لئے قانونی کارروائی کا آغاز کر سکتا ہے۔
