ماضی کے دریچوں سے آتی خوشبو

حیاتیات Jun 17, 2026 IDOPRESS


تحریر: محمد اقبال اعوان


وہ وقت آج بھی یادوں کی دہلیز پر دستک دیتا ہے تو دل بے اختیار ماضی کی گلیوں میں بھٹکنے لگتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زندگی کی رفتار دھیمی مگر پُرسکون تھی، خواہشیں محدود تھیں اور زندگی خلوص، سادگی، رشتوں اور محبت سے عبارت تھی۔ شام کے سائے گہرے ہوتے تو پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات شروع ہوتیں اور رات گئے تک جاری رہتیں۔ نہ چینلز کا ہجوم تھا، نہ موبائل فون عام تھے اور نہ ہی سوشل میڈیا کی بے مقصد مصروفیات کا کوئی تصور تھا۔ تفریح بھی سادہ تھی اور زندگی بھی۔ صرف ایک ہی چینل پی ٹی وی تھا، مگر اسی ایک چینل نے لاکھوں دلوں کو جوڑ رکھا تھا۔ ٹیلی ویژن محض تفریح کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ علم، تربیت اور شعور کا ایک معتبر وسیلہ بھی تھا۔


بچوں کے لیے ٹیلی ویژن کا استعمال عموماً عصر کے وقت کارٹون دیکھنے تک محدود ہوتا، جبکہ رات کے اوقات میں ڈرامے، خبریں اور معلوماتی پروگرام پورے گھر کی توجہ کا مرکز بنتے۔ چونکہ چینل تبدیل کرنے کا آپشن موجود نہیں تھا، اس لیے خبروں کے اوقات میں خبریں بھی سنی جاتیں۔ یوں بچوں اور نوجوانوں کی عمومی معلومات اور حالاتِ حاضرہ سے آگاہی خود بخود بڑھتی رہتی تھی۔ علم حاصل کرنا اس دور میں ایک فطری عمل تھا، جس کے لیے الگ سے کسی مہم یا ترغیب کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔


زندگی کے معمولات بھی آج سے یکسر مختلف تھے۔ وقت گپ شپ، مطالعے، کھیل کود، جانوروں کے لیے چارہ لانے، پانی بھرنے اور رشتہ داروں و پڑوسیوں سے ملاقاتوں میں گزرتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں بلا تکلف آتے جاتے تھے۔ میل جول زیادہ تھا، اس لیے محبتیں بھی گہری تھیں اور ناراضگیاں بھی کھل کر سامنے آتی تھیں، مگر ان تعلقات میں منافقت، مفاد پرستی اور دکھاوے کی آمیزش نہ ہونے کے برابر تھی۔ دل صاف تھے، نیتیں خالص تھیں اور رشتوں میں اپنائیت کا رنگ نمایاں تھا۔


اگرچہ پاکستان ٹیلی ویژن کا کوئی حریف موجود نہیں تھا، لیکن اس کے ڈراموں کا معیار غیرمعمولی تھا۔ مکالموں میں شائستگی، زبان میں مٹھاس اور اداکاری میں حقیقت کا رنگ نمایاں ہوتا تھا۔ کردار معاشرے کی حقیقی عکاسی کرتے تھے اور ہر ڈرامہ اپنے اندر کوئی نہ کوئی اخلاقی، سماجی یا فکری پیغام سموئے ہوتا تھا۔ ان ڈراموں کے مکالموں سے علم، ادب اور تہذیب کی خوشبو آتی تھی۔ خبریں سن کر شعور میں اضافہ ہوتا تھا اور دینی علماء کی تقاریر سن کر فکر و عمل کی نئی راہیں روشن ہوتی تھیں۔


اس دور کا ذکر "نیلام گھر" کے بغیر ادھورا رہتا ہے۔ یہ محض ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک تہذیبی ادارہ تھا جس نے تفریح، علم، ادب اور ثقافت کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کر دیا تھا۔ جنرل نالج کے سوالات، شاعری، حاضر جوابی، مزاح، معلوماتی گفتگو، موسیقی اور مختلف مقابلوں نے اسے ہر عمر کے افراد کا پسندیدہ پروگرام بنا دیا تھا۔ بعد ازاں یہی پروگرام ’’طارق عزیز شو‘‘ کے نام سے بھی پہچانا جانے لگا۔


طارق عزیز اپنی ذات میں ایک عہد تھے۔ ان کا اندازِ گفتگو، لہجے کی شائستگی، الفاظ کا چناؤ اور حاضر دماغی بے مثال تھی۔ ان کے الفاظ موتیوں کی مانند پروئے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ وہ صرف ایک میزبان نہیں بلکہ ایک معلم، ایک دانشور اور ایک مصلح کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے پروگراموں میں تفریح کے ساتھ ساتھ علم، اخلاق اور مثبت سماجی اقدار کی ترویج بھی کی جاتی تھی، جس نے ایک پوری نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔


اسی طرح شام کے وقت نشر ہونے والا پنجابی پروگرام ’’پنجند‘‘ بھی اپنی مثال آپ تھا، جس کے میزبانی دلدار پرویز بھٹی کیا کرتے تھے۔ ان کی نظامت میں ایک خاص کشش، شائستگی اور سادگی تھی جو ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑے رکھتی تھی۔ وہ زمانہ ایسا تھا جب پروگراموں کی مقبولیت شور و غوغا سے نہیں بلکہ معیار، علمیت اور معاشرتی اقدار کے رکھ رکھاؤ سے متعین ہوتی تھی۔


موسیقی کے میدان میں بھی وہ دور اپنی ایک الگ شناخت رکھتا تھا۔ ملکۂ ترنم نور جہان کی جادوئی آواز، عارف لوہار کے لوک گیت، مہدی حسن کی سحر انگیز کلاسیکی گائیکی، عابدہ پروین کے صوفیانہ کلام، ناہید اختر کی دلکش گائیکی اور فریحہ پرویز کے مترنم نغمے موسیقی کے شائقین کے دلوں پر راج کرتے تھے۔ بعد کے برسوں میں وائٹل سائنز، جنون اور سٹرنگز جیسے بینڈز نے پاکستانی موسیقی کو نئی جہتیں عطا کیں اور نوجوان نسل کے جذبات کی ترجمانی کی۔


تاہم عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا مقام سب سے منفرد دکھائی دیتا ہے۔ انہیں بجا طور پر ’’درد کا سفیر‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی آواز میں ایسا سوز، ایسی کسک اور ایسی تاثیر تھی کہ سننے والا لمحوں میں اپنے اردگرد کی دنیا سے بے نیاز ہو جاتا تھا۔ جب ان کی آواز میں یہ درد بھری صدا گونجتی:


’’تیرے کھو تاں آئیاں، ساوا تمباکو،


اسی جگ لٹیرے، تساں لٹیاں سالوں،


بے درد ڈھولا ایویں نئیں کریندا‘‘


تو یوں محسوس ہوتا جیسے صدیوں کے دکھ، محبت کی کسک اور گلے شکوں کے سارے رنگ چند مصرعوں میں سمٹ آئے ہوں۔ ان کے گیت سن کر وہ شخص بھی خود کو محبت کی وادی کا مسافر محسوس کرنے لگتا تھا جس کا عشق و محبت سے کبھی دور کا واسطہ بھی نہ رہا ہو۔


1992 کا وہ تاریخی لمحہ کون بھول سکتا ہے جب پاکستان کے شاہینوں نے کرکٹ کا عالمی کپ جیت کر پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ قوم خوشی سے جھوم اٹھی، گلیاں اور بازار جشن میں ڈوب گئے اور ہر پاکستانی کے دل میں اپنی سرزمین کے لیے محبت اور فخر کا جذبہ مزید گہرا ہو گیا۔ یہ صرف ایک کھیل کی جیت نہیں تھی بلکہ پوری قوم کے حوصلوں، امیدوں اور خوابوں کی فتح تھی۔


تعلیم کے میدان میں بھی حالات مختلف تھے۔ اساتذہ اپنے شاگردوں کو صرف نصاب نہیں پڑھاتے تھے بلکہ ان کی کردار سازی کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ والدین اطمینان سے بچوں کو اساتذہ کے سپرد کر دیتے تھے کیونکہ استاد کو روحانی والدین کا درجہ حاصل سمجھا جاتا تھا۔ معاشرے کا ہر فرد اساتذہ کی دل و جان سے قدر کرتا تھا۔ انہی اساتذہ کی شفقت، محنت اور خلوص نے ایک ایسی نسل تیار کی جو ادب، احترام اور معاشرتی اقدار کو زندگی کا لازمی حصہ سمجھتی تھی۔ شاید اسی لیے آج بھی اس نسل کے لوگ اپنے اساتذہ کا نام احترام سے لیتے ہیں اور معاشرتی رویوں میں شائستگی کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔


آج جب ماضی کے ان دریچوں کو کھولا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ سہولتیں کم تھیں مگر سکون زیادہ تھا، ذرائع محدود تھے مگر تعلقات مضبوط تھے، تفریح کم تھی مگر معیار زندگی بلند تھا، اور زندگی میں مصروفیت کم مگر اطمینان زیادہ تھا۔ وقت کی تیز رفتار موجیں بہت کچھ بہا لے گئی ہیں، مگر اس دور کی یادیں آج بھی دل کے کسی گوشے میں جگمگاتے چراغ کی مانند روشن ہیں اور بار بار یہ احساس دلاتی ہیں کہ انسان کی اصل خوشی جدید سہولتوں میں نہیں بلکہ خلوصِ نیت، محبت بھرے رشتوں، علم دوست ماحول اور باوقار تہذیبی اقدار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ادب و آداب کا رنگ ہر سمت نمایاں تھا اور محبت کی بنیاد بھی ادب ہی پر استوار تھی۔


اسی حقیقت کو یہ خوبصورت مصرعہ بیان کرتا ہے


"ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں"


اور شاید یہی ایک مصرعہ اس پورے دور کی سب سے خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔

۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔


آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں