
مصنف:مہر غلام فرید کاٹھیا
قسط:56
”اسے ہسپتال کون لایا؟“میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا جس پر انہوں نے بتایا۔
”دو اڑھائی گھنٹے ہوئے کچھ لوگ آئے تھے وہ اسے ایمرجنسی میں چھوڑ کر غالباً چلے گئے ہیں کیونکہ اب وہ نظر نہیں آرہے۔“
اب مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ کون لوگ تھے۔
اللہ کا شکر تھا کہ ابنے کے جسم میں کوئی بریکیج نہیں ہوا مگرزخم کافی گہرے تھے۔
صبح کی اذانوں کے ساتھ ابن حسن نے آنکھیں کھولیں اور مجھے دیکھتے ہی ہنس پڑا۔ میرا خون خول گیا ”اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی تم ہنس رہے ہو۔“
مگر اُس نے کوئی جواب نہیں دیا اوربدستور ہنستا رہا۔
”جہنم میں جاؤ، میں جارہا ہوں“میں اُٹھ کھڑا ہوا۔اور اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
”بیٹھ جاؤ، بیٹھ جاؤ تم نہیں جاؤ گے مجھے پتہ ہے۔ تم جانتے ہو کہ میری ہر بات صحیح ہوتی ہے۔“
وہ مسکرایا اور پھر کہا۔
”نہ تم جاؤ گے نہ میں مروں گا اور نہ میرے جہنم میں جانے کی تیری خواہش پوری ہوگی۔ تمہیں پتہ بھی ہے کہ میں جانتا ہوں۔“
اور میں نے واپس بیٹھتے ہوئے سوچا۔
ظالم ٹھیک ہی تو کہتا ہے۔ اس کی باتیں کبھی غلط نہیں ہوتیں۔ اس کے اندازے کبھی غلط نہیں ہوئے۔ اس کے منہ سے نکلا ہوا ہرلفظ سچ ثابت ہوتا ہے۔ معلوم نہیں اللہ میاں نے اس کے ذہن کے کمپیوٹر میں کیا صلاحیت رکھ دی ہے۔
میں نے ڈاکٹر صاحب کو ان کے دفتر میں جا کر اطلاع دی کہ ابن حسن ہوش میں آگیا ہے اور ڈاکٹر صاحب میرے ساتھ ہی اُٹھ کے ایمرجنسی وارڈ میں آگئے اورابن حسن کو فوری طور پر میڈیکل وارڈ میں منتقل کر دیا۔
میں نے صبح ہوتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ سرگودھا میں اپنے ایک دوست کو فون کرکے ابن حسن کے باپ کا نام پتہ لکھوایا اور کہا کہ ابنے کے باپ کو فوراً لاہور بھیجو۔
سرگودھا میں ابنے کے گھر فون نہیں تھا۔ اُس کا باپ ایک چھوٹا سا بزنس مین تھا۔ اِبنے اُس کی واحد نرینہ اولاد تھی اوراِبنے سے چھوٹی ایک بیٹی تھی جوسرگودھا کسی کالج میں ایف اے میں پڑھ رہی تھی اور یہی ان کی کل فیملی تھی۔
اِبنے کا باپ علی سردار دوپہر کے وقت ہسپتال پہنچا۔ میں ہسپتال میں اِبنے کے پاس موجود تھا۔ اس کا باپ ایک شریف سا خاموش طبع آدمی تھا۔ اُ س نے بیٹے کو دیکھا تو روہانسا سا ہوکر بولا۔
”بیٹا کیا ہوا؟“
اِبنے کی بجائے میں بولا۔
”چاچا یہ ہاسٹل کی سیڑھیوں سے گرگیا ہے۔ چند معمولی زخم ہیں ویسے اب ٹھیک ہے “
اتنے میں ڈاکٹر صاحب جو ڈیوٹی پر تھے آگئے اور مجھے کہا۔
”آپ کا دوست اب ٹھیک ہے۔ آپ اسے لے جانا چاہیں تو لے جائیں۔ میں دوائیاں لکھ دیتا ہوں وہ باقاعدگی سے کھلائیں۔ مکمل ٹھیک ہو جائے گا۔“
اِبنے کے والد چاہتے تھے کہ وہ ہسپتال سے سیدھا بس اڈے پہ جائیں اور سرگودھا کی بس پکڑیں کیونکہ وہ سہ پہر تک سرگودھا پہنچ سکتے تھے مگر میں نہیں مانا۔ میں نے اِبنے کے والد کو کہا۔
”اِبنے کے سر کی چوٹ ہے۔ احتیاط کرنی چاہیے۔ ابھی اس کے لئے بس کا سفر ٹھیک نہیں۔“
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
