ایک بہت ضروری بات،جو ذہن نشین رہے وہ یہ ہے کہ پروجیکٹر میں آواز کا نظام تصویر دکھانے والے نظام کے کچھ دیر بعد جا کر آتا ہے

حیاتیات Aug 26, 2026 IDOPRESS

مصنف: محمد سعید جاوید


قسط:53


یہ دندانے فلم کے سوراخوں میں پوری طرح بیٹھ جاتے ہیں۔یہاں ایک فلکر(Flicker)لگا ہوا ہوتا ہے جو پہلے ایک خودکار طریقے سے اوپر اٹھتا ہے اورریل سے اترنے والی فلم کے سوراخوں یعنی پرفوریشن میں داخل ہو کر فلم کو نیچے کی طرف کھینچتا ہے اور ایسا کرتے وقت وہ فلم کے ایک فریم کو اپنے ساتھ نیچے کی طرف گھسیٹ لاتا ہے اور پھر وہاں اسے روشنی والی کھڑکی کے سامنے چھوڑ کر فوراً ہی فلم کے اس فریم کی پرفوریشن میں سے اپنے دندانے نکال کر ایک بار پھر اوپر کو اٹھتا ہے اور اسی طرح اگلے فریم کو گھسیٹ کر روشنی والی کھڑکی کے سامنے لیآتا ہے۔ اوپر جس لوپ کا تذکرہ کیا ہے وہ اسی لیے ڈھیلا رکھا جاتا ہے تاکہ جب فلکر اوپر فلم کے سوراخوں میں گھس کر اسے نیچے کھینچے تو دباؤ کی وجہ سے فلم ٹوٹ نہ جائے۔ روشن کھڑکی میں ایک سیکنڈ کے چوبیسویں حصے کے لیے فلم کا ایک فریم ٹھہرتا ہے اس کا عکس عدسے کے ذریعے سکرین تک پہنچتا ہے، تب اس کھڑکی کے سامنے لگی ہوئی نصف فولادی شٹر پلیٹ گھوم کر وہاں آتی ہے اور روشنی کے سوراخ کو ذرا سی دیر کے لیے بند کر دیتی ہے۔ اس دوران اگلا فریم نیچے اتر آتا ہے۔ تو ٹھیک اسی وقت شٹر پلیٹ کا نصف خالی حصہ سامنے آ جاتا ہے اور روشنی ایک بار پھر اگلے فریم کی شبیہ پر پڑتی ہے جو عدسے سے گزر کر اسکرین تک پہنچتی ہے۔ یہ سارا کام انتہائی تیزرفتاری سے اور خودکار طریقے سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے تحریر ہوا ہے کہ انسان کی آنکھ جب ایک سیکنڈ میں 24 مختلف تصویروں کو تھوڑی تبدیلی سے دیکھے گی تو دماغ اس کو حرکت کرتی ہوئی تصویر کے طور پر ہی محسوس کرے گا کیونکہ ایک تصویر ابھی مکمل طور پر دماغ میں بن نہیں پاتی تو دوسری آجاتی ہے اور یہ کام پروجیکٹر کے شٹل، فلکر اور شٹر پلیٹ مل کر کرتے ہیں۔ یہاں سے فلم گزر کر اپنا سفر مختلف چرخیوں اور رولروں پر جاری رکھتی ہے۔ روشنی والی کھڑکی سے تھوڑا آگے جا کر ایک بار پھر لوپ بنتا ہے یعنی وہاں پہنچ کر فلم ایک بار پھر ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ یہاں سے ایک بار پھر فلکر اس کو گھسیٹ کر ایک سلنڈر(جسے ساؤنڈ ڈرم کہا جاتا ہے) پر چڑھا دیتا ہے۔ یہاں یہ فلم ایک اور ہلکی روشنی میں سے گزرتی ہے جو صرف فلم کے کناروں پر بنی ہوئی صوتی پٹی یا ساؤنڈ ویو پر پڑتی ہے اور اس میں سے گزر کر عقب میں لگے ہوئے روشنی کے سینسر پر پڑتی ہے۔ جہاں سے روشنی برقی لہروں میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کی آواز کو بڑھانے کے لیے ایمپلی فائر سے گزار کر اسے اسپیکروں میں بھیج دیا جاتا ہے اور یہاں سے یہ فلم فارغ ہو کر، پروجیکٹر میں اپنا کام مکمل کر لیتی ہے اور پروجیکٹر سے اتر کر نیچے گھومتی ہوئی خالی ریل پر لپٹنا شروع ہو جاتی ہے۔ یاد رہے کہ اس دوران فلم والی کھڑکی کے پیچھے تیز روشنی کا بلب یا آرک لائٹ مسلسل جلتی رہتی ہے اور وہاں تیزی سے فلم دکھانے کا کام مسلسل ہوتا رہتا ہے۔


ایک بہت ضروری بات،جو ذہن نشین رہے وہ یہ ہے کہ پروجیکٹر میں آواز کا نظام تصویر دکھانے والے نظام کے کچھ دیر بعد جا کر آتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تصویر پہلے سے نظر آنے لگے اورآواز کچھ دیر بعد آئے تو سامنے سکرین پر ان کا تال میل نہیں ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں تصویر میں ہونٹ ہلتے پہلے نظر آ جائیں گے جب کہ آواز اس وقت اسپیکر پر پہنچے گی جب وہی فلم ساؤنڈ ڈرم سے گزرے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ آواز اور تصویر ایک مطابقت کے ساتھ کام کریں۔ مختلف تجربوں کے بعد یہ طے کیا گیا کہ اگر کسی فریم کی آواز کو اس کی تصویر کے ساتھ یکساں کرنا ہے تو اس منظر سے متعلق آواز والا فریم یا پٹی کم از کم 21 فریم پہلے ساؤنڈ ڈرم سے گزرے۔ دوسرے الفاظ میں جب تصویر میں کسی کردار کا منہ ہل رہا ہو تو عین اس وقت اس کی آواز ساؤنڈ ڈرم سے گزر رہی ہو۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر کسی کردار کی تصویر فریم نمبر 21 پر آ رہی ہے تو عین اسی وقت اس کی آواز والی پٹی فریم نمبر 1 کی حیثیت سے ساؤنڈ ڈرم میں سے گزر رہی ہو۔اس کو مزید سمجھنے کے لیے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ جب تصویری فلم کا فریم نمبر21پروجیکٹر کی کھڑکی کے سامنے آتا تھا تو اس وقت فلم کا پہلا فریم آواز کے نظام سے گزر رہا ہوتا تھا، لیکن اس میں فریم نمبر 21 میں بولے جانے والے ڈائیلاگ ریکارڈ ہوتے تھے۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں