
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے اور خطے میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے باعث تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات مزید بڑھ چکے ہیں۔اسی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 76 سینٹ اضافے، یعنی 0.73 فیصد، کے بعد 105 ڈالر 48 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 59 سینٹ اضافے، یعنی 0.64 فیصد، کے بعد 92 ڈالر 44 سینٹ تک پہنچ گئی۔
ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات بڑھی تھیں، تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر ہونے والے عملے برآمدات کا یہ عمل متاثر کر سکتے ہیں۔
برطانوی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے رپورٹ کیا ہے کہ عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر ڈرون حملے کا نشانہ بنا، جبکہ آبنائے ہرمز عبور کرنے والے ایک اور آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا گیا۔
اسی دوران پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے اور آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔ پاسداران کے مطابق یہ آئل ٹینکر غیر مجاز راستوں سے گزرتے ہوئے بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔
پاسدارنِ انقلاب نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وہ جہاز جو آبنائے ہرمز میں اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کریں گے، انھیں مخالف تصور کیا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد بھی دیکھنے میں آیا۔ سنیچر اور اتوار کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں میں 14 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔
