
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ دوستوں نے کہا ایمرجنسی لگا کر منتخب حکومت کو باہر پھینک دیا گیا، کے پی حکومت کا دہشتگردی کے خلاف رویہ ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ تھا،سیاسی جماعت کے نظریہ کی وجہ سے دہشتگردی کو ہوا ملی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے،وزیر قانون نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی نے فورسز اور عوام کی شہادتوں کو نظرانداز کیا،سہیل آفریدی نے اپنی سیاست کو پروان چڑھانے کو ترجیح دی، دہشتگردی کے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دوروں پر نکل گئے، کے پی میں دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، کے پی میں 3سال میں دہشتگردی کے 2911اور گزشتہ ایک سال کے عرصہ میں 3783واقعات ہوئے،صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر توجہ کے بجائے دارالحکومت پر چڑھائی کا اعلان کیا گیا، کے پی میں اندرونی خلفشار اور سرحد پار دراندازی کی وجہ سے ایمرجنسی کا فیصلہ کیا۔
وفاقی وزیر قانون کاکہناتھا کہ دوستوں نے کہا ایمرجنسی لگا کر منتخب حکومت کو باہر پھینک دیا گیا، کے پی حکومت کا دہشتگردی کے خلاف رویہ ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ تھا،سیاسی جماعت کے نظریہ کی وجہ سے دہشتگردی کو ہوا ملی،کابینہ اجلاس میں ڈھائی گھنٹے کی گفتگو کے بعد ایمرجنسی کی تجویز دی گئی۔
