
اسلام آباد (ویب ڈیسک) خواجہ آصف نے وزیر دفاع بننے کی داستان سنادی اور بتایا کہ سپریم کورٹ نے مسنگ پرسنز کیس میں نوازشریف کو بلارکھا تھا اور مجھے وزارت دفاع کاچارج سنبھالنے کی پرچی دے کر کہا گیا کہ کل آپ نے سپریم کورٹ میں پیش ہونا ہے۔
اے آروائے نیوز کے پروگرام میں میزبان محمد مالک کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں سپریم کورٹ نے اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کو بلا رکھا تھا، آرمی چیف کی تعیناتی بھی ہونا تھی، نئے آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے نوازشریف نے مجھے ، چوہدری نثار اور شہبازشریف کو میٹنگ کیلئے بلایا تھا، میں نے نوازشریف سے پوچھا کہ کسے بنارہے ہیں؟ سفارش آنے کا پوچھا تو میں نے بتایاکہ 5 ناموں میں سے چار کی سفارش آئی ، راحیل شریف کی سفارش نہیں آئی،نوازشریف نے کہاکہ مجھے بھی اس کی سفارش نہیں آئی، پھر انہوں نے راحیل شریف کو آرمی چیف بنادیا، یہ بہت اچھی بات تھی کہ اس نے سفارش نہیں کروائی، وہ ایک پروفیشنل آدمی ہیں۔
