تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر غالیباف نے امریکہ پر طنز کرتے ہوئے تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے۔ بی بی سی اردو

تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر غالیباف نے امریکہ پر طنز کرتے ہوئے تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق 26 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اقدامات اور بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کے پاس اب تیل کی ترسیل کے لیے ’کوئی جہاز باقی نہیں رہا‘ اور اس صورتحال کے نتیجے میں ایران کی تیل پائپ لائنیں ’پھٹ سکتی ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب ہونے میں صرف تین دن باقی ہیں۔
یہی دعویٰ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی طرف سے 28 اپریل کو سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے کی صنعت بند ہو رہی ہے اور ’جلد ہی کنویں سے تیل نکالنے کا عمل رُک جائے گا۔‘
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس کے بعد ’ایران میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو جائے گی۔‘
انھی دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے باقر غالیباف نے ایکس پوسٹ میں لکھا: ’تین دن گزر گئے ہیں اور ابھی تک کوئی بھی کنواں نہیں پھٹا۔‘
ایرانی پارلیمان کے سپیکر کا کہنا تھا کہ ’ہم اس مدت کو مزید 30 دن بڑھا کر کنویں کی صورتحال براہ راست نشر بھی کر سکتے ہیں۔‘
آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے باقر غالیباف نے پیش گوئی کی کہ یہ قیمت بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہے۔
ایکس پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’یہ اس قسم کا بے کار مشورہ تھا جو امریکی انتظامیہ کو (وزیر خزانہ) بیسنٹ جیسے لوگوں سے ملتا ہے۔ یہ ناکہ بندی کے نظریے پر اصرار کرتے کرتے تیل کی قیمتوں کو 120 ڈالر فی بیرل تک لے گئے ہیں۔ اگلا پڑاؤ 140۔‘
