
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے قتل کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر ملزم کی عمر قید ختم، سزا کاٹی گئی مدت تک محدود کر دی، جسٹس محمد امجد رفیق نے سزا تبدیل کرنے سے متعلق نیا قانونی نکتہ طے کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت نے حکومت پنجاب کو حکم دیا کہ قتل کے مقدمات میں سزا کے تعین کے لیے قانونی اصلاحات پر غور کیا جائے اور پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ میں ایسی ترامیم کی جائیں جن سے مناسب حالات میں سزا کے تعین کے دوران عدالتی صوابدید کے استعمال کی گنجائش پیدا ہوسکے۔
تاہم مقتول کے ورثا کو 5 لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی، عدم ادائیگی پر 6 ماہ کی سادہ قید اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-B کے تحت رعایت سے متعلق ٹرائل کورٹ کا حکم برقرار رکھا گیا، عدالت نے جیل اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ واپس بھجوانے کی ہدایت کردی۔
