پولیس 6،6 سال تک گواہ پیش نہیں کرتی، پھر کہتے ہیں عدلیہ خراب ہے: چیف جسٹس عالیہ نیلم

عی Oct 26, 2026 IDOPRESS

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ میں جعلی چیک کے مقدمے میں نامزد ملزم غلام دستگیر کی ایف آئی آر سے اخراج کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ پولیس 6,6سال سے گواہ پیش نہیں کرتی، پھر کہتے ہیں عدلیہ خراب ہے کیا کریں ، عدلیہ خراب ہے جو بول نہیں سکتی، عدلیہ خراب ہے جو کچھ کہہ نہیں سکتی، عدالت نے سی پی او ملتان اور ڈی پی او مظفر گڑھ کو کل مکمل ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے غلام دستگیر کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ پانچ سال پہلے مقدمہ درج ہوا، نہ ملزم گرفتار ہوا اور نہ ہی اس نے تفتیش جوائن کی پولیس 6،6 سال تک گواہ پیش نہیں کرتی، لیکن کیا کریں عدلیہ خراب ہے جو بول نہیں سکتی، عدلیہ خراب ہے جو کچھ کہہ نہیں سکتی، عدالتیں پولیس کو جرمانے کرتی ہیں لیکن ٹھیک پھر نہیں ہوتے، پولیس افسروں کی تنخواہ بند کرتے ہیں لیکن تھوڑی سی تنخواہ بند ہونے سے انہیں کیا فرق پڑتا ہے؟ پولیس عمل نہ کرے تو سینئر افسر کو بلانا پڑتا ہے لیکن عدلیہ خراب ہے۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں