
تہران (ویب ڈیسک) ایران کے مرکزی قرارگاہ خاتم الانبیاء نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان پر اپنے حملے بند نہیں کرتا تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ پارلیمانی سپیکر باقر غالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں۔
بی بی سی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 84 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
قرارگاہ خاتم الانبیاء نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل ’جنوبی لبنان میں اپنی شدت پسندانہ کارروائیوں کا سلسلہ ختم نہیں کرتا تو اسے ایران کی مسلح افواج کے سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
ادھر ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں باقر غالیباف نے بتایا کہ انھوں نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران زور دیا کہ ’جنگ کا خاتمہ تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بشمول لبنان۔‘
غالیباف، جنھوں نے اتوار کے روز ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے تھے، نے کہا کہ ’قابض قوتوں‘ یعنی اسرائیل کو زیرِ قبضہ علاقوں سے نکل جانا چاہیے تاکہ متاثرہ شہری ’عزت اور وقار کے ساتھ‘ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔‘
