
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین اور ارکان نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کا دورہ کیا، قائمہ کمیٹی نے حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کیلئے خود تحقیقات کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق چیئرمین کمیٹی مہیش کمار ملانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی سرکاری انکوائری پر انحصار نہیں کرے گی، میرٹ پر حقائق کا جائزہ لیا جائے گا، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملنے والی معلومات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حادثے کی تحقیقات کیلئے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے کمیٹی تشکیل دی تھی ، ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری شاہد خان کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین جبکہ میجر جنرل ریٹائرڈ ڈاکٹر خورشید اترا، ڈاکٹر نبیل اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا تھا۔
کمیٹی پمز ہسپتال میں آگ لگنے کی وجوہات اور واقعے کی مکمل ٹائم لائن کا تعین کرے گی۔ جبکہ ہسپتال عملے، فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے ہنگامی ردعمل اور امدادی کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ انکوائری کمیٹی واقعے میں غفلت کے مرتکب افراد اور ان کی ذمہ داری کا تعین کرے گی، جبکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پمز کے انتظامی نظام میں اصلاحات کی سفارشات بھی پیش کرے گی۔
وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی سے قبل حادثے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ جس میں ڈی جی کیپٹل ایمرجنسی سروسز، ایس پی سی ٹی اسلام آباد، اسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریا، ڈی جی ایمرجنسی سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز کے نمائندے شامل ہیں۔
