
مصنف: ارشادالعصر جعفری
قسط:13
عبدالودود نے آہستہ سے اپنی انگلی فرش کی طرف اٹھائی۔ ”سایہ۔“ سب نے نیچے دیکھا۔ چاروں آدمیوں کے سائے مختلف سمتوں میں پھیلے ہوئے تھے، مگر ایک پانچواں سایہ بھی تھا جو کسی انسان سے جڑا ہوا نہیں تھا۔ وہ آہستہ آہستہ فرش پر رینگ رہا تھا، دیوار پر چڑھا، چھت تک پہنچا، پھر الٹا لٹک گیا، اور خاموشی سے زاور کے سر کے عین اوپر آ کر رک گیا۔ زاور نے کچھ محسوس نہیں کیا، صرف عبدالودود کی آنکھوں میں پہلی بار حقیقی خوف اتر آیا۔ اس نے لرزتی آواز میں کہا: ”مت ہلنا، ہرگز مت ہلنا، کیونکہ یہ اس کا پہلا قانون ہے --- جب وہ صرف سایہ بن کر آئے تو وہ ابھی تمہیں دیکھ رہا ہوتا ہے، اور جس لمحے تم اسے محسوس کر لو، وہ تمہیں محسوس کرنے لگتا ہے۔“
اسی لمحے، چھت پر پھیلا ہوا وہ پانچواں سایہ آہستہ آہستہ مسکرانے لگا۔
کمرے میں موجود کسی شخص نے سانس لینے کی بھی جرأت نہ کی۔ عبدالودود کی نگاہیں اب بھی چھت سے چمٹے ہوئے اس پانچویں سائے پر تھیں، جو حرکت نہیں کر رہا تھا، مگر اس کی خاموشی میں ایک عجیب سی زندگی تھی، جیسے وہ انتظار کر رہا ہو۔
زاور نے بمشکل سرگوشی کی۔ ”آپ اسے دیکھ رہے ہیں؟“
”ہاں۔“ عبدالودود کی آواز خشک تھی۔ ”اور یہی ہماری پہلی مصیبت ہے۔“
”پہلی؟“ سلمان نے فوراً پوچھا۔
”جب ایک ہی شے کو دو آدمی ایک ساتھ دیکھنے لگیں، تو سمجھ لو وہ وہم نہیں رہی۔“
اسی لمحے جنریٹر چل پڑا، روشنی واپس آ گئی، کمرہ پھر سے معمول کے مطابق روشن ہو گیا۔ سلمان نے فوراً چھت کی طرف دیکھا --- وہاں کچھ بھی نہیں تھا، نہ کوئی سایہ، نہ کوئی نشان۔ مگر عبدالودود کے چہرے پر اطمینان نہیں آیا۔ ”روشنی صرف آنکھوں کی مدد کرتی ہے،“ وہ آہستہ سے بولا، ”حقیقت کی نہیں۔“
اس نے میز پر رکھا کانسی کا سکہ اٹھایا، اس بار اپنی ہتھیلی پر سیدھا رکھا۔ ”دیکھو۔“ زاور اور سلمان دونوں جھک آئے۔ سکے پر بنی مخلوق پہلے جیسی ہی تھی --- اوپر انسانی دھڑ، نیچے سانپ کا جسم --- لیکن اس کے گرد کندہ تحریر اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ چند حروف غائب ہو چکے تھے، ان کی جگہ نئے نشانات ابھر آئے تھے۔
”یہ ابھی تو ایسا نہیں تھا،“سلمان نے حیرت سے کہا۔
عبدالودود نے سر ہلایا۔ ”یہی تو ڈر ہے۔ یہ سکہ دھات کا نہیں، یادداشت کا بنا ہے۔“
زاور نے بے اختیار پوچھا: ”یادداشت کا؟“
”ہاں، یہ اپنے مالک کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔“
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ عبدالودود نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، پھر بولا: ”تم دونوں نے شاید غور نہیں کیا۔ اس نے آج تک اپنا نام نہیں بتایا۔ ہم سب اسے ایک نام دے رہے ہیں --- انسانپ --- لیکن ہو سکتا ہے وہ خود کو کسی اور نام سے جانتا ہو۔“
زاور نے پہلی بار محسوس کیا کہ خوف صرف اس مخلوق سے نہیں، بلکہ اس خیال سے بھی پیدا ہو رہا تھا کہ شاید انسان صدیوں سے کسی ایسی چیز کو غلط نام سے پکارتا رہا ہے جسے وہ کبھی سمجھ ہی نہ سکا۔
(جاری ہے)
نوٹ: ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں
