مصنف:رانا امیر احمد خاں قسط:351اندازِ حکمرانی اور حاکمانہ لوٹ مار2024ء میں آج 83 سال کی عمر مکمل ہونے پر میں جب ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے پاکستان

مصنف:رانا امیر احمد خاں
قسط:351
اندازِ حکمرانی اور حاکمانہ لوٹ مار
2024ء میں آج 83 سال کی عمر مکمل ہونے پر میں جب ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے پاکستان کی اقتصادیات اور موجودہ مشکلات پر غور و خوض کرتے اور لکھاری نہ ہوتے ہوئے بھی لکھنے بیٹھا ہوں میری آنکھوں کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے، میں برابر ٹشو سے اپنے آنسوؤں کو خشک کرنے کی سعی میں لگا ہوا ہوں۔ یہ کیفیت مجھ پر ماضی میں بھی طاری ہوتی رہی ہے جب بھی میں نے اپنے ملک کو حکمرانوں کے ہاتھوں پٹڑی سے اترتے اور مشکلات میں گھرے دیکھا ہے لیکن آج جیسے پاکستان والا منظر اور حالات کبھی بھی نہ تھے۔ آج پاکستان کے عوام مہنگائی اور غربت کی چکی میں پسے جا رہے ہیں۔ ہماری حکومتیں اور عوام پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں۔ دیوالیہ پن کا اعتراف کرنے اپنے خرچے کم کرنے اور سرجوڑ کر علاج تجویز کرنے کی بجائے ہماری حکومتیں اپنے اللوں تللوں میں وقت گزاری اور ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کا سہارا لیتے ہوئے ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں اور حکومتوں کو مزید قرضوں کی دلدل میں ڈبونے کا اہتمام کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔1960ء کے عشرہ میں ہم پورے ایشیا میں جاپان کے بعد چین، کوریا، ملیشیا، انڈونیشیا اور انڈیا سے فی کس آمدنی بہتر معیار زندگی اور سستا ترین ملک ہونے کے ناتے سب سے آگے تھے۔ میرا گزشتہ پون صدی کا مشاہدہ مجھے یہ باور کرنے پر مْصر ہے کہ وطن عزیز کی بربادی کا آغاز 1969ء میں مارشل لاء اور پاکستان کے دولخت ہو جانے کے بعد ہو گیا تھا۔ جتنے حکمران تھے سب کے سب اپنے دورِ حکمرانی کو طول دینے، اپنے اثاثوں میں اضافہ کرنے، وطن عزیز کے وسائل کو ترقی دینے کی بجائے اسے نوچ کھانے اور اپنی نسلوں تک کے لیے مراعات در مراعات سے فیض یاب ہونے میں لگے رہے۔ حکمران، سیاستدان، ممبران اسمبلی امیر تر ہوتے گئے اور عوام غریب تر۔ ملکی مفاد میں فیصلے لینے کی بجائے ذاتی، پارٹی اور چنیدہ شخصیات کے مفادات کے لیے قانون بھی بنتے رہے اور فیصلے بھی لیے جاتے رہے۔ اشرافیہ کے قرضے معاف ہوتے رہے اور قومی خزانے بھی لٹائے جاتے رہے۔ بالخصوص 1980ء کے عشرے کے بعد تمام شعبہ ہائے زندگی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تنزلی، اخلاقیات کی پستی، ہماری اقدار کی پامالی، ڈیم بنانے اور سستی بجلی پیدا کرنے کی بجائے مہنگی بجلی پیدا کرنے کے باعث زراعت اور صنعتوں کی بربادی، ٹیکس کلچر کو مضبوط بنانے اور قومی آمدنی میں اضافے کی بجائے قرضے در قرضے لینے، شاہ خرچیوں میں ضائع کرنے اور بیرون ملک اثاثے بنانے کی حکمرانوں، بیوروکریٹس اور نو دولتیوں کی اس روش نے پاکستان کی معیشت و معاشرت کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ اس طرح دنیا تو ایک طرف ایشیائی ممالک میں بھی ہم افغانستان کے علاوہ سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
کثرت ِ آبادی کا سیلاب بلا
راقم نے سیاستدانوں، بیورو کریٹس کے برعکس زندگی بھر خود کو عقل کل نہیں سمجھا۔ معاشیات و معاشرت اورسیاست کا ماہر نہیں بلکہ صرف ایک ادنیٰ طالب علم سمجھا ہے۔ مجھ جیسا1958-60ء میں معاشیات کا ایک انٹرمیڈیٹ کا طالب علم اپنے لڑکپن میں بھی مالتھسس کی آبادی کی تھیوری کو پڑھتے ہوئے پاکستان کے اس وقت کے کم آبادی کے حالات میں بھی وطنِ عزیز پرمنطبق اور درست سمجھتا تھا لیکن افسوس حکمرانوں پر کہ جنرل ایوب خان کے علاوہ کسی دوسرے حکمران کو آبادی کے منفی اثرات کا صحیح ادراک آج تک نہ ہو سکا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے لیے پاکستان کی حکومتوں کے پاس آج وسائل ہیں، نہ پانی، نہ صحت نہ تعلیم، نہ خوراک اور نہ ہی یہ سمجھنے کی صلاحیت کہ بنگلہ دیش، چین اور انڈونیشیا جیسے ممالک نے آبادی کے سیلاب کے آگے کیسے بند باندھا ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
