
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اپیل کنندہ کی وفات کے باوجود اگر اس کے قانونی ورثا موجود ہوں تو اپیل محض اس بنیاد پر خارج نہیں کی جا سکتی، کیونکہ زیرِ سماعت مقدمے سے حاصل ہونے والے مالی یا دیگر فوائد قانونی ورثا کو منتقل ہو سکتے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ایف بی آر کے سابق ملازم عبد الحق کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا، بنچ نے اپیل پر سماعت کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کو ہدایت کی کہ وہ محکمانہ ترقی سے متعلق اپیل کا فیصلہ تین ماہ میں کرے۔
وکیل نے بتایا کہ عبد الحق 13 جنوری 2019ء کو انتقال کر گیا، جبکہ فیڈرل سروس ٹربیونل نے 16 جنوری 2019ء کو اس کی درخواست داخل دفتر کر دی، فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف عبد الحق کے بیٹے نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ نے معاملہ نمٹاتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کو حکم دیا کہ وہ قانونی ورثا کی جانب سے دائر اپیل پر قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے تین ماہ کے اندر فیصلہ کرے۔
