
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے اصولی طور پر ایک مرکزی ڈیجیٹل ٹیکس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے تمام معاملات اسلام آباد میں قائم "فیس لیس" (بغیر براہِ راست شناخت کے) یونٹس کے ذریعے انجام دیے جائیں گے، تاکہ افسران کے صوابدیدی اختیارات اور ٹیکس دہندگان سے براہِ راست رابطے کو کم کیا جا سکے۔
انگریزی جریدے ڈان میں شائع مبارک زیب خان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز پاکستان کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کی منظوری دی اور اس اصلاحاتی منصوبے کو تیار کرنے والے ٹیکس حکام کی تعریف کی۔ یہ ماڈل رواں سال اکتوبر سے تین مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔
نیا نظام وقت کی پابندی کے ساتھ شفاف پراسیسنگ اور خودکار اپ ڈیٹ کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو یقینی وقت فراہم کرے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ اپیلوں کے نظام کو مرحلہ وار "فیس لیس" ماڈل میں منتقل کرے۔
