
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی سپریم کورٹ نے بیوی کی خودکشی کے ایک مقدمے میں شوہر کو بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اختلافات ازدواجی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں اور چند دن بات چیت نہ ہونا ظلم یا ہراسانی کے زمرے میں نہیں آتا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صرف 13 دن تک بیوی سے بات نہ کرنے کو ٹھوس شواہد کے بغیر ظلم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بھارتی سپریم کورٹ کے مطابق کسی شخص کو سزا دینے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ اس کا رویہ اتنا سنگین تھا کہ وہ خاتون کو خودکشی پر مجبور کر سکتا تھا یا اس کی ذہنی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون نے اپنے والدین کے گھر میں پھندا لگا کر خودکشی کر لی تھی۔
استغاثہ کا مؤقف تھا کہ شوہر اور سسرال والوں کی جانب سے اضافی جہیز کے مطالبات اور ہراسانی کی جاتی تھی جبکہ شوہر نے خاتون سے فون پر بات چیت بھی بند کر رکھی تھی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ استغاثہ شوہر کے خلاف ظلم کے الزامات کو معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
عدالت نے شوہر کو بری کرتے ہوئے اس کے خلاف 3 سال قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
