
تحریر: وقار ملک
دنیا کے ہر مہذب اور جمہوری ملک کا اپنا آئینی، قانونی اور انتظامی نظام ہوتا ہے۔ ریاستیں قوانین اور اداروں کے ذریعے چلائی جاتی ہیں اور شہریوں کو حقوق حاصل ہوتے ہیں، لیکن ان حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ آزادیٔ اظہار، سیاسی سرگرمی اور پُرامن احتجاج جمہوری حقوق ہیں، لیکن ان حقوق کا استعمال قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے تاکہ ایک فرد یا سیاسی گروہ کے حقوق دوسرے شہریوں کے حقوق کو متاثر نہ کریں پاکستان بھی ایک جمہوری ملک ہے، جہاں شہریوں کو سیاسی جماعتیں بنانے، انتخابات میں حصہ لینے، اپنی رائے کا اظہار کرنے، پُرامن احتجاج کرنے اور اپنے سیاسی مطالبات پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن جمہوری آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت جہاں چاہے اور جب چاہے احتجاج کرے، سڑکیں غیر معینہ مدت تک بند کر دے، عام شہریوں کی زندگی اور کاروبار کو متاثر کرے یا ریاستی اداروں کو سیاسی دباؤ میں لانے کی کوشش کرے جمہوریت صرف حقوق کا نام نہیں، بلکہ قانون کا احترام، برداشت، سیاسی اختلاف کو تسلیم کرنا اور ریاستی اداروں کی آئینی ذمہ داریوں کا احترام بھی جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے۔ اگر ہر سیاسی جماعت یہ سمجھنے لگے کہ اس کے مفادات اور مطالبات قانون سے بالاتر ہیں تو ریاست کمزور ہوتی ہے اور سیاسی انتشار جنم لیتا ہے۔پاکستان 1947 میں قائم ہوا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک نے سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات، فوجی اور جمہوری حکومتوں، آئینی بحرانوں اور مختلف داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا کیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور فوجی حکومتوں نے ملک چلایا، لیکن پاکستان آج بھی بہت سے بنیادی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کر رہا ہےماضی میں پاکستان نے ترقی کے مختلف ادوار دیکھے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہے، لیکن معاشرے میں باہمی تعلق، برداشت اور ایک دوسرے کے لیے احترام بھی نمایاں تھا۔ آج سیاسی تقسیم نے معاشرے کے اندر ایک نئی خلیج پیدا کر دی ہے۔ بہت سے خاندانوں میں سیاسی اختلافات ذاتی اختلافات میں تبدیل ہو گئے ہیں، بھائی بھائی سے دور ہو رہے ہیں اور دوست سیاسی وابستگی کی وجہ سے ایک دوسرے سے اختلاف کرنے لگے ہیں۔عمران خان کے سیاسی دور کے بعد پاکستان کی سیاسی تقسیم میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور اس کے اثرات معاشرے پر بھی پڑے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اہم سیاسی اور معاشی مشکلات کا سامنا رہا اور اس کی پالیسیوں اور کارکردگی پر اپوزیشن سمیت مختلف حلقوں نے شدید تنقید کی۔ بالآخر اپوزیشن جماعتیں متحد ہوئیں اور تحریکِ عدم اعتماد پیش کی، جس کے نتیجے میں اپریل 2022 میں عمران خان وزارتِ عظمیٰ سے محروم ہوگئے۔اس کے بعد عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کو امریکی سازش اور بیرونی مداخلت سے جوڑا۔ یہ بیانیہ ان کی سیاست کا ایک اہم حصہ بن گیا اور ان کے لاکھوں حامیوں نے اسے قبول کیا، جبکہ دوسری جانب بہت سے لوگوں نے اس دعوے کو مسترد کیا اور اس کے شواہد پر سوالات اٹھائےقطع نظر اس کے کہ کوئی شخص اس سیاسی معاملے کو کس نظر سے دیکھتا ہے، سیاسی اختلاف کو ریاست یا قومی اداروں کے خلاف نفرت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔لیکن قانون کے دائرے میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے اپنے سیاسی مطالبات کے لیے متعدد مواقع پر احتجاج کیے۔ مختلف مواقع پر سڑکیں بند ہوئیں، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچنے کے واقعات سامنے آئے، بعض مقامات پر فائرنگ اور تشدد کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے اور انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔9 مئی 2023 کے واقعات سیاسی کشیدگی کا ایک انتہائی سنگین موڑ تھے، جب فوجی تنصیبات سمیت مختلف مقامات پر حملوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات سامنے آئے۔ یہ واقعات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں انتہائی تشویش ناک حیثیت رکھتے ہیں۔
پاکستان میں ہر سیاسی جماعت کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ تاہم فوجی تنصیبات، سرکاری یا عوامی املاک پر حملہ کرنا، تشدد کرنا یا عام شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنا کسی جمہوری معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ ایسے معاملات کا فیصلہ سیاسی نعروں یا سڑکوں کے دباؤ سے نہیں بلکہ عدالتوں اور قانون کے ذریعے ہونا چاہیے۔عمران خان کے مقدمات اور ہسپتال میں رکھنے کا مطالبہ عمران خان کو مختلف قانونی مقدمات کا سامنا ہے۔ ان کی جماعت بعض مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کو سیاسی قرار دیتی رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ریاستی اداروں اور استغاثہ کی جانب سے مختلف الزامات اور شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ بعض مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے فیصلے سامنے آئے، جبکہ دیگر قانونی کارروائیاں جاری رہی ہیں۔
اس لیے ہر مقدمے کو اس کی قانونی حیثیت کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔ کسی الزام کو حتمی جرم ثابت ہونے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے عدالت کے فیصلے اور قانونی عمل کا احترام ضروری ہے۔ یہی اصول ہر سیاسی رہنما، ہر عام شہری اور ہر ملزم کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔20 اور 21 اگست 2026ء کی درمیانی شب عمران خان کو مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت اڈیالہ جیل سے طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ حکومتی بیان کے مطابق ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔ ان کی ہمشیرہ بھی طبی عمل کے دوران موجود رہیں اور طبی معائنے کے بعد عمران خان کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ڈاکٹر یہ قرار نہ دیں کہ کسی قیدی کو مسلسل ہسپتال میں رکھنے کی طبی ضرورت ہے تو صرف کسی سیاسی جماعت کے مطالبے کی بنیاد پر اسے ہسپتال میں رکھنے کی قانونی بنیاد کیا ہوگی؟اگر ڈاکٹر یہ فیصلہ کریں کہ کسی قیدی کو ہسپتال میں علاج کی ضرورت ہے تو اسے لازماً علاج کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ لیکن اگر مکمل طبی معائنے کے بعد ہسپتال میں داخل رکھنے کی طبی ضرورت موجود نہ ہو تو پھر کسی سیاسی جماعت کا اسے لازماً ہسپتال میں رکھنے کا مطالبہ طبی ضرورت کے بجائے سیاسی مطالبہ بن جاتا ہے۔کسی قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے، علاج فراہم کرنے یا دوبارہ جیل بھیجنے کا فیصلہ طبی ضرورت، جیل قوانین، عدالتی احکامات اور متعلقہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ سڑکوں پر ہونے والے احتجاج یا سیاسی دباؤ کے تحت۔
یہی اصول عمران خان کے لیے بھی ہونا چاہیے جو پاکستان کے کسی دوسرے قیدی کے لیے ہے۔
دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں اپنے مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کے لیے قانونی طور پر لابنگ فرموں، وکلا اور پبلک ریلیشنز اداروں کی خدمات حاصل کرتی ہیں۔ اصولی طور پر یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ تاہم تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بیرونِ ملک سیاسی سرگرمیوں کا مقصد پاکستان کے خلاف ایسا ماحول پیدا کرنا بن جائے جس سے ملک کی ساکھ، معیشت یا ریاستی اداروں کو نقصان پہنچے۔
کسی حکومت پر تنقید کرنا یا حقیقی انسانی حقوق کے مسائل کو اجاگر کرنا جمہوری حق ہے۔ لیکن پاکستان کے خلاف جان بوجھ کر بین الاقوامی دباؤ پیدا کرنا ایک مختلف معاملہ ہے اور اس پر سنجیدہ قومی بحث ہونی چاہیے۔ کسی خودمختار ملک کے اندرونی معاملات میں غیر ضروری بیرونی مداخلت بھی کسی طور مناسب نہیں۔اس وقت برطانیہ، یورپی یونین اور امریکہ میں پاکستان کے سیاسی معاملات اور عمران خان کے حق میں مختلف سطحوں پر لابنگ اور سیاسی مہمات کی بات کی جا رہی ہے۔ اگر ایسی سرگرمیوں کا مقصد پاکستان پر اپنی پسند کے سیاسی فیصلے مسلط کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا یا ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہو تو یہ ایک سنجیدہ قومی معاملہ بن جاتا ہے۔
اسی طرح اگر یہ الزامات موجود ہوں کہ بیرونِ ملک سے کسی سیاسی یا عوامی تحریک کو مالی معاونت فراہم کی گئی ہے تو ان الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ محض الزام کو ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے، لیکن اگر غیر قانونی مالی معاونت ثابت ہو جائے تو اسے نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان کی مسلح افواج: دفاع، استحکام اور عالمی امن پاکستان کی مسلح افواج ایک اہم قومی ادارہ ہیں۔ ان کی بنیادی ذمہ داری ملک کا دفاع، قومی سلامتی کا تحفظ اور پاکستان کی خودمختاری کی حفاظت ہے۔ سیاست اور حکومت چلانا منتخب سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے، جبکہ فوج کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور اسے غیر ضروری سیاسی تنازعات میں نہیں گھسیٹنا چاہیے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں افواج کو قومی سلامتی اور دفاع کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی دفاع کے ادارے کی عزت اور اس کے جوانوں کی قربانیوں کا اعتراف پوری قوم کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
پاکستان کی فوج نے ملک کے دفاع کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، سرحدوں کی حفاظت، قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں عوام کی مدد اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی فوج نے نہ صرف ملکی دفاع بلکہ عالمی امن اور استحکام میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی فوج ایک مضبوط، منظم، باصلاحیت اور پیشہ ورانہ قومی ادارے کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔ پاکستان کا مثبت کردار دنیا میں اجاگر ہونا اور امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا قومی سطح پر قابلِ قدر ہے۔ بہت سے پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو ملک کے لیے ایک مثبت اور اہم موقع سمجھتے ہیں اور انہیں پاکستان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت اور تحفہ قرار دیتے ہیں۔قومی اداروں کا احترام اور فوج کے جوانوں کی قربانیوں کا اعتراف ایک صحت مند قومی معاشرے کی علامت ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن فوج کو نفرت اور سیاسی کشمکش کا نشانہ بنانا پاکستان کے قومی مفاد میں نہیں۔ہمارے جوان اور افسران ملک کی سرحدوں، عوام اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں تک کی قربانی دیتے ہیں۔ ان کی خدمات اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔پاکستان کی فوج ملک کی محافظ ہے۔ سیاست دان سیاسی نظام کے ذمہ دار ہیں، عدلیہ انصاف کی ذمہ دار ہے اور عوام پاکستان کے اصل وارث ہیں۔ جب ہر ادارہ اپنے آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر کام کرے گا تو پاکستان زیادہ مضبوط، مستحکم اور خوشحال ہوگاپاکستان کو تقسیم نہیں، اتحاد چاہیے آج سب سے بڑا خطرہ صرف سیاسی اختلاف نہیں بلکہ معاشرتی تقسیم بھی ہے۔ خاندان تقسیم ہو رہے ہیں، بھائی بھائی سے اختلاف کر رہا ہے اور دوست سیاسی وابستگی کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو حب الوطنی پر اجارہ داری کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے 14 اگست پاکستان کا یومِ آزادی ہے۔ یہ دن کسی ایک سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کا نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ہو، مسلم لیگ ن ہو، پاکستان پیپلز پارٹی ہو یا کوئی دوسری سیاسی جماعت—پاکستان سب کا ہے۔
تاہم حالیہ یومِ آزادی کے موقع پر بھی سیاسی تقسیم نمایاں نظر آئی۔ اگر کسی سیاسی جماعت نے 14 اگست کو اپنی سیاسی وابستگی کے دائرے میں محدود رکھا اور مختلف سیاسی خیالات رکھنے والے پاکستانیوں کو ساتھ شامل نہیں کیا تو یہ ہماری مجموعی سیاسی تقسیم کی ایک افسوس ناک مثال ہے۔
پاکستانی ہونے کے لیے پی ٹی آئ کا ہونا ضروری نہیں سمجھنا چاہئے اور نہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن ہونا ضروری نہیں۔اپوزیشن کو بھی سمجھنا ہوگا کہ احتجاج کا حق ریاست کو مفلوج کرنے یا عام شہریوں کو مشکلات میں ڈالنے کا لائسنس نہیں ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق اور سیاسی اختلاف کے احترام کو یقینی بنانا چاہیے۔
لیکن پاکستان سب سے پہلے۔
۔
۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
.
اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔
