ابتدائی دور کے پروجیکٹر مختلف نوعیت کے ہوتے تھے، پرانے زمانے کے پروجیکٹر متروک ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ڈیجیٹل پروجیکٹر آگئے ہیں 

سافٹ ویئر Aug 25, 2026 IDOPRESS

مصنف: محمد سعید جاوید


قسط:52


جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ فلم سیلولائیڈ کا ایک طویل فیتہ ہوتا ہے جس پر ایک تسلسل کے ساتھ کیمرے سے مطلوبہ مناظر کی فلم بندی کی گئی ہوتی ہے۔ اور یہ فلم کم از کم 24 فریم فی سیکنڈ کے حساب سے فلمائی گئی ہوتی ہے۔ اس لیے اب اس فلم میں کرداروں کو دوبارہ اسی طرح چلتا پھرتا دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک بار پھر فلم کو اسی رفتار سے تیز روشنی کے سامنے سے اور ایک طاقتور محدب عدسے کے عقب سے گزارکر تصاویر کو سامنے لگے ہوئے دیو ہیکل اسکرین پر دکھایا جائے۔ اس کی سائنسی توجیہہ یہ ہے کہ جب ایک تصویر نظر کے سامنے آتی ہے تو دماغ ابھی تک اس کو اپنے اندر پوری طرح سموتا بھی نہیں ہے کہ اس دوران ایک تسلسل میں اگلی تصویر کچھ تبدیلی کے ساتھ سامنے آ جاتی ہے۔ دماغ اس کو پہلی تصویر کا ہی حصہ سمجھ لیتا ہے اور یوں جب ایک سیکنڈ میں 24 تصاویر سامنے پردے پر نظر آئیں گی تو ان میں کرداروں کی حرکت کا تصور پیدا ہوتا ہے۔


روایتی پروجیکٹر


ابتدائی دور کے پروجیکٹر مختلف نوعیت کے ہوتے تھے اور ان میں مختلف اقسام کی فلمیں چلتی تھیں جس میں 8 ایم ایم، 16 ایم ایم اور 35 ایم ایم کے پروجیکٹر ہوتے تھے لیکن سب کا طریقہ کار ایک جیسا ہی ہوتا تھا۔ 8 اور 16 ایم ایم کے پروجیکٹر گھریلو استعمال یا چھوٹے اجتماع مثلاً سکول، دیہاتوں وغیرہ میں استعمال ہوتے تھے۔ اور ان کو اٹھا کر کہیں بھی لے جایا جا سکتا تھا۔ جبکہ 35 ایم ایم پروجیکٹر بڑے سینما ہالوں میں استعمال ہوتے تھے۔ وہ اپنی جگہ مضبوطی سے فرش میں نصب ہوتے تھے۔ پروجیکٹروں کی اقسام، نوعیت اور حجم سے بالاتر ہوکر دیکھیں تو ان سب کے کام کرنے کا تکنیکی طریقہ ایک ہی ہوتا ہے۔


پرانے زمانے کے پروجیکٹر حالانکہ اب متروک ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ڈیجیٹل پروجیکٹر آگئے ہیں لیکن ابھی تک دنیا کے ترقی پذیر ملکوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں روایتی پروجیکٹر استعمال ہورہے ہیں اس لیے میں بھی ان کا ذکر کرتے ہوئے حاضر کا صیغہ استعمال کروں گا:


ایک روایتی اور پرانے پروجیکٹرمیں مندرجہ ذیل بنیادی چیزیں ہوتی ہیں، فلم کی ریل یا اسپول، مختلف چھوٹی بڑی چرخیاں اور رولر، فلم کے روشنی کی کھڑکی کے سامنے سے گزرنے کا راستہ، اس کے اندر پیچھے ایک چیمبر میں تیز روشنی کا بلب یا کاربن آرک لائٹ اور اس کے عقب میں روشنی کو منعکس کر کے سامنے کھڑکی پر روشنی پھینکنے والا آئینہ، شٹل کا نظام اور اس کے سامنے شٹر پلیٹ اور اس کے بعد عدسہ ہوتا ہے اس کے علاوہ آواز کے لیے ساؤنڈ سسٹم اور اس کا بلب اور پھر سب سے نیچے دوسری خالی ریل۔


جیسے ہی فلم بھری ہوئی ریل یا اسپول سے نکلتی ہے تو وہ دو تین چرخیوں اور رولروں پر سے گزر کر نیچے روشنی والی کھڑکی کی طرف بڑھتی ہے۔ یہاں پہنچ کر فلم ایک خودکار طریقہ سے تھوڑی سی ڈھیلی ہو کر ایک لوپ بنالیتی ہے اور پھر سیدھی کھڑی ہو کر روشنی والی کھڑکی کے سامنے آجاتی ہے۔ وہاں اس کھڑکی کے دونوں طرف شٹل (Shuttle)اور دندانے لگے ہوتے ہیں جو فلم کے اطراف میں بنے ہوئے سوراخوں یعنی پرفوریشن میں داخل ہو کر فلم کی حرکت کو قابو کرتے ہیں۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں