
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ شادی کے وقت کسی خاتون کو اس کے والدین، رشتہ داروں، شوہر یا سسرال والوں کی طرف سے اس کے ذاتی استعمال اور فائدے کے لیے دی گئی کوئی بھی جائیداد مکمل طور پر اسی کی ملکیت ہوتی ہے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ملکیت کا تعین نام سے نہیں بلکہ منتقلی کے پسِ پردہ نیت اور اس پر دلہن کے خصوصی حق سے ہوتا ہے۔ اس لیے شوہر یا اس کے خاندان کی طرف سے ایسی جائیداد کو اپنے پاس رکھنا، محروم کرنا یا اس کا غلط استعمال کرنا بیوی کے مالکانہ حقوق کو غیر قانونی طور پر روکنے کے مترادف ہے اور وہ مجاز فیملی کورٹ کے سامنے قانونی کارروائی کے ذریعے اسے واپس حاصل کرنے کی حقدار ہے۔
