
مصنف:اللہ دتہ نجمی
قسط:34
تکلیف کی شدت میں تیزی آنے پر میرا ذہن بھی تیزی سے کام کر رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ قیدیوں یا جاسوسوں سے راز اگلوانے کے لئے تشدد کے مختلف طریقے آزمائے جاتے ہوں گے، یہ طریقہ نجانے اب تک دنیا کے متشددانہ اور ماہرانہ دماغوں میں کیوں نہ آ سکا۔ اِدھر ”موچنا“ ملزم کے کان کے اندر گھسا کر ”خالدانہ“ انداز میں حرکت دیں، اُدھر چند سیکنڈ کے قلیل وقت میں پٹاخ سے قیدی کی زبان سے جرم کا اقرار باہر برآمد ہو۔۔۔ خیر چھوڑیئے! دراصل میرا اور ڈاکٹر خالد کا طریقہء علاج کم و بیش ایک جیسا ہی تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ جب میں رِنگ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا تب کان میرا تھا اور جب ڈاکٹر خالد یہی ہنر آزما رہے تھے اور موچنے کو اپنے ہاتھ میں لئے خوب کھل کر اپنے ماضی کے تجربات میں ایک نئے تجربے کا اضافہ کر رہے تھے، تب کان اُن کا نہیں تھا۔
جب ڈاکٹر خالد نے میرے کان کا ستیا ناس سے ناس تر اور پھر ناس ترین کر دیا اور میں شدید درد میں اُف یا ہائے جیسے معصومانہ الفاظ کی گردان چھوڑ کر رونے، بلبلانے اور چلانے کے مقام پر آ گیا تو میں آداب (protocol) برائے مریضاں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کان سے نکلے ہوئے تازہ خون کے دھبے گردن اور قمیص پر لگے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر ایاز حیدر نے خون صاف کرنے کے بعد میرے کان میں روئی ٹھونسی اور مجھے لے کر وارڈ سے باہر آ گئے۔ نکلتے ہوئے میں نے غصے کے عالم میں ڈاکٹر خالد سے کہا ”جو کچھ میرے ساتھ آپ نے کیا ہے، زیادہ نہیں تو اُتنا ضرور لوٹاؤں گا۔“ میری یہ بات سن کر ڈاکٹر خالد کو پریشانی لاحق ہو گئی۔ میرا ایک جاننے والا ایک صحافی بھی عین اُسی وقت آن ٹپکا۔ اس نے بھی ڈاکٹر کے خوب لتے لئے اور خبر لگانے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ اِس سے پریشان حال ڈاکٹر کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ تاہم میں نے اُس صحافی کو خبر لگانے سے منع کر دیا کیونکہ خبر لگنے کی صورت میں میری سبکی کا احتمال نسبتاً زیادہ تھا۔ تاہم یہ بات میری سوچ سے بالا تر رہی کہ ای این ٹی کے سکندر سے میرے کان کے اندر پھنسا ایک معمولی اور حقیر سا میٹل رِنگ کیوں فتح نہ ہو سکا۔
وارڈ سے باہر نکلنے کے بعد میں اور ڈاکٹر ایاز حیدر سید پور روڈ پر واقع ڈاکٹر اسلم چوہدری کے پرائیویٹ کلینک پر پہنچے۔ ڈاکٹر اسلم چوہدری میرے پرانے دوست تھے اور ناک کان اور گلے کے امراض کے حوالے سے اُن کا طوطی بولتا تھا۔ اُن کے گلے لگ کر رونے کو دل کر رہا تھا مگر بزدلی کے طعنے سننے کا حوصلہ نہیں ہو رہا تھا۔ انہیں مختصر اور نپے تلے الفاظ میں اپنی رودادِ الم سنائی۔ کان سے روئی نکالتے اور ایک غیر مانوس چھوٹی سی مشین کی مدد سے کان کا معائنہ کرتے ہوئے قدرے درشت لہجے میں کہنے لگے ”آپ پہلے میرے پاس کیوں نہیں آئے“میں نے اپنی شرمندگی چھپانے کی حتیٰ المقدور کوشش کرتے ہوئے جواب دیا”ڈاکٹر صاحب! ضروری نہیں کہ مجھ جیسا آدمی ہر وقت صحیح فیصلے کرے۔ میں گاہے بگاہے غلط اور طفلانہ فیصلے کرنے پر بھی برابر قدرت رکھتا ہوں۔ آپ اسے میری حماقت سمجھ کر نظر انداز کر دیجیے۔“
میرے جواب پر ڈاکٹر صاحب نے کوئی بات کرنے کی بجائے فقط ہلکا سا تبسم بکھیرنے پر اکتفا کیا۔ میں نے اپنے کان کی حالت پوچھی تو وہ کہنے لگے کہ کان شدید متاثر ہوا ہے۔ بلیڈنگ کان کا پردہ جزوی طور پر پھٹنے سے ہوئی ہے۔ کان کا پردہ پھٹنے کا سن کر میرا دماغ پھٹنے کے قریب آ گیا۔ مجھے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ بمشکل اپنے خطا اوسان بحال کرتے ہوئے پوچھا ”میٹل رِنگ اِدھر ہی آپریشن کرکے نکال دیں گے یا کل اُدھر سرکاری ہسپتال میں؟۔۔۔۔۔ بے ہوش کریں گے یا اُس کے بغیر ہی کام چل جائے گا؟“دراصل بے ہوش نہ کرنے کی صورت میں میں ذہنی طور پر خود کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار کر رہا تھا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
