
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط:92
شروع میں تو کئی برس تک سینے راما پرعموماً سیر و سیاحت اور قدرتی حسن کی دستاویزی فلمیں دکھائی جاتی تھیں اور یہ اس نظام میں جچتی بھی خوب تھیں۔ مختلف ممالک کے خوبصورت مقامات کو اس نئے انداز میں دکھایا جاتا تھا تو لوگ بہت محظوظ اور متاثر ہوتے تھے۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس اس سینما کو دنیا بھر میں متعارف کرایا گیا۔ اور تقریباً دنیا کے ہر بڑے شہر میں اس کی نمائش ہوئی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ 1960ء کی دہائی میں اس کو کراچی میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بڑے خیمے میں اندھیرا کر کے3 پروجیکٹروں کی مدد سے یہ سینما شو دکھایا گیا تھا۔خیمے کے اندر نشستیں نہیں لگائی گئیں تھیں بلکہ لوہے کے پائپ زمین میں گاڑ کر ان پر ایک ترتیب سے ریلنگ لگا دی گئی تھی جن کو پکڑ کر تماشائی کھڑے ہوجاتے اور حیران و پریشان ہو کر ہر طرف گھوم کر ایک تسلسل سے یہ نظارہ دیکھا کرتے تھے۔خیمے کی بناوٹ ایسی تھی کہ سوائے عقب کے ہر طرف فلم کے مختلف زاویوں کے مناظر نظر آتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ اس منظر میں کسی بندر گاہ سے ایک چلتی ہوئی کشتی کو باہر نکلتے ہوئے دکھایا گیا تھا جس کے پہلوؤں پر سے بڑے بڑے بحری جہاز گزرتے جاتے تھے اور سامنے ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آتا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے ہم سچ مچ سمندری سفر میں جانے کے لیے کسی بڑی اور مصروف بندرگا ہ سے باہر نکل رہے ہیں۔
اس کے بعد اس نظام کے تحت دستاویزی فلموں سے ہٹ کر بھی کچھ فیچر فلمیں بنائی گئیں جن کی تعداد صرف 7 تھی۔ جن میں ہالی ووڈ کی مشہور فلم How the west was won شامل تھی لیکن بدقسمتی سے یہ سلسلہ بس چند برس تک ہی چلا اور پھر ختم ہو گیا۔ اس کی کچھ وجوہات یہ تھیں:
اس نظام کے تحت فلمانے کے لیے خصوصی کیمرہ بہت مہنگا پڑتا تھا اور پھر اس کیمرے کو سنبھالنا اور چلانا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی کیوں کہ اس کو ایسے زاویے پر رکھنا پڑتا تھا جس سے منظرتھری ڈی کا تاثر دے۔ اس کے اندر3 ثانوی کیمرے نصب ہونے کی وجہ سے یہ بہت وزنی ہو جاتا تھا۔ اور پھر 3 کیمروں کو انفرادی طور پر سنبھالنا پڑتا تھا، ان میں فلمیں بدلنا پڑتی تھیں اور کیمرے کو فوکس رکھنا پڑتا تھا۔ پھر تینوں کیمروں کے بیک وقت چلنے کا شور بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے سیٹ پر آواز ریکارڈ کرنے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور تقریباً ہر منظر کے لیے آواز کی ڈبنگ کرنا پڑتی تھی۔ جو ایک بڑا ہی مشکل کام تھا۔ اور ساری آوازیں بھی مصنوعی طور پر فولی نظام کے ذریعے پیدا کی جاتی تھیں۔
سب سے بڑی مصیبت پروجیکشن کے وقت تینوں کیمروں کی فلموں میں مطابقت پیدا کرنا ہوتا تھا۔ایک کامیاب شو کے لیے ضروری تھا کہ تینوں کیمروں کی فلموں کو بیک وقت تین مختلف پروجیکٹروں پر چلانے کے دوران ایک فریم کا بھی فرق نہ آئے۔ ورنہ ساری فلم کا تسلسل ختم ہو جائے گا۔اگر کسی ایک پروجیکٹر کی فلم ٹوٹ جاتی اور اس کو دوبارہ جوڑا جاتا،تو یہ معمولی سا وقفہ بھی مجموعی طور پر مطابقت کے عمل کو الٹ پلٹ کر دیتا تھا۔ اس لیے بہت احتیاط کرنا پڑتی تھی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
