اللہ نیت کا پھل دیتا ہی دیتا ہے، اب احساس ہو رہا تھا کہ اگر کسی سے آگے نہیں تو پیچھے بھی ہر گز نہ تھا،گالی اور فضول بات وہی سنتا ہے جس میں کمزوری ہو

مصنف:شہزاد احمد حمیدقسط:497”واٹر ایڈ“ بھی ایسی ہی ایک انٹرنیشنل ایجنسی تھی۔ یہ بھی ا کیڈمی آن پہنچے۔ یہ صحت و صفائی کے حوالے سے مختلف پراجیکٹس پر

عی Apr 14, 2026 IDOPRESS

مصنف:شہزاد احمد حمید


قسط:497


”واٹر ایڈ“ بھی ایسی ہی ایک انٹرنیشنل ایجنسی تھی۔ یہ بھی ا کیڈمی آن پہنچے۔ یہ صحت و صفائی کے حوالے سے مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہے تھے اور اکیڈمی میں gravitational flow کے ساتھ سیوریج لائن بنانے کا منصوبہ رکھتے تھے۔ کامیابی کی صورت میں اسے پنجاب کے دیہی علاقوں میں متعارف کروانے کا پروگرام تھا۔ اس پراجیکٹ میں ٹیکنیکل سپورٹ ” Nust“ نے مہیا کر نی تھی۔ ان کی ٹیم بھی لالہ موسیٰ ہمارے پاس آئی لیکن یہ پراجیکٹ ادھورا ہی رہ گیا۔ واٹر ایڈ پنجاب کے ٹیم لیڈرفراکت علی ہنس مکھ، سمجھ دار اور اچھے انسان تھے۔


خود پر بھروسہ؛


اتنے بڑے بڑے ڈویلپمنٹ پاٹنرز کا اعتماد اور تھوڑے وقت میں سب کا یوں لالہ موسیٰ اکیڈمی کا رخ کرنا ایسی کامیابی تھی جس کی توقع اتنی جلدی تو ہر گز نہ تھی۔ سب میرے اللہ کا کرم، فیکلٹی کے دوستوں کی محنت، سیکرٹری بلدیات کا اعتماد اور خود پر بھروسہ تھا۔ میں عمر بھر خود کو under estimate ہی کرتا رہا لیکن اب احساس ہو رہا تھا کہ اگر کسی سے آگے نہیں تو پیچھے بھی ہر گز نہ تھا۔دوران تربیت میں شرکائے تربیت کو پڑھاتا بھی تھا اور میرے لئے گئے سیشنز کا فیڈ بیک بہت اچھا ہوتا۔میرا آڈیو آپرئیٹر عرفان(ارشد ڈرائیور کا بیٹا۔ ا کیڈمی کا فوٹو گرافر۔ تا بعدار ہنس مکھ نوجوان۔) مجھے شرکاء کے ریمارکس سے آ گاہ کرتا ہی رہتا تھا۔ اسی اعتماد نے مجھ میں آ گے بڑھنے کا نیا جذبہ پیدا کر دیا تھا اور نوجوان افسران نے اسے جلا بخش دی تھی۔اللہ نیت کا پھل دیتا ہی دیتا ہے۔


کمان میں تبدیلی؛


میرے حج پر جانے سے پہلے محکمہ بلدیات میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہو گئی تھیں۔ سیکرٹری بلدیات سفید شلوار قمیض پہنتے تھے۔ اس سفید پوشی کے علاوہ ان میں کوئی اور خوبی نہ تھی۔ جلد ہی انہوں نے اپنے بہت سے اختیار ڈائریکٹر جنرل کے سپرد کرکے محکمہ کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔وہ ان کی تجاویز پر بنا ء سوچے عمل کرتے اور نتیجہ میں متاثر ہونے والے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے، جگ ہنسائی بھی ہوتی اور کیا گیا فیصلہ بھی عدالت اڑا دیتی تھی۔انہوں نے ساری سروس سیکرٹریٹ میں گزاری تھی یہ ان کی پہلی فیلڈ پوسٹنگ تھی۔ افسران کی غلطی یا کمزوری اگر ان کے ریڈار میں آ جاتی تو وہ ایسے افسر کو خوب ڈراتے اور جب وہ ڈر جاتا تو خوب بلیک میل کرتے تھے۔ خود کو سادہ اور پارسا ظاہر کرنے والا یہ شخص اندر سے اتنا ہی بھیانک تھا۔ میں کرٹیسی کال کرنے آ یا تو اس وقت وہ ایک انکوائری کے حوالے سے 2 افسران سے گفتگو کر رہے تھے۔ میں نے جانے کیاجازت چاہی تو بولے؛”بس 2منٹ دے دیں مجھے۔“میری موجودگی میں انہوں نے جو ان دونوں کے لئے زبان اور الفاظ استعمال کئے اگر وہ ذرا سا بھی غیرت مند ہوتا تو وہ انہیں اتنا مارتا کہ ساری عمر وہ کسی سے ایسی گفتگو کرنے کا سوچتا بھی نہ۔یارو! گالی اور فضول بات وہی سنتا ہے جس میں کمزوری ہو(مردانہ نہیں کردار کی) یا وہ کانا ہو۔یقیناً وہ افسر اس سلسلے میں بہت کمزور تھا۔وہ گئے تو میں نے ان سے اپنا تعارف کراتے کہا ”میں صرف آپ سے ملنے آ یا تھا۔ وقت ملے تو اکیڈمی تشریف لائیے گا۔‘ میری ان سے ملاقات ناگوار مگر تلخ تعلقات کا آ غاز تھی۔(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں