تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر غالیباف کا کہنا ہے کہ ایران کو دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں۔ ’’بی بی سی اردو

تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر غالیباف کا کہنا ہے کہ ایران کو دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں۔
’’بی بی سی اردو کے ‘‘مطابق’’ ایکس ‘‘پر اپنی پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ’’ٹرمپ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ناکہ بندی کے ذریعے مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا اپنی اشتعال انگیزی کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’’ہمیں دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں اور پچھلے 2 ہفتے میں ہم نے میدان جنگ میں نئے پتے لانے کی تیاری کی ہے۔‘‘
ترامپ با اعمال محاصره و نقض آتشبس میخواهد تا به خیال خود این میز مذاکره را به میز تسلیم تبدیل کند یا جنگافروزی مجدد را موجّه سازد.
مذاکره زیر سایهٔ تهدید را نمیپذیریم و در دو هفتهٔ اخیر برای رو کردن کارتهای جدید در میدان نبرد آماده شدهایم.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 20,2026
