
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے جذباتی نعرے ، ناقابل عمل مطالبات ، مخالف کی بے رحمانہ کردار کشی ، نفرت انگیز الزامات ، قومی مفاد اور عوامی حقوق کے نام پر لوگوں کے جذبات سے کھیلنا وقتی کامیابی ضرور دلاتا ہے لیکن اسکا انجام سب کو لے کے ڈوبنا ہی ہوتاہے۔
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا ان فاشسٹ رویوں کا علاج فاشزم نہیں بلکہ قانون پر اس کی روح کیمطابق عملدرآمد اور غیر جانبدارانہ دوٹوک انصاف ہوتاہے۔ ریاستی جبر وقتی طور پر ابھرے ہوۓ جذبات کو دبا لیتا ہے لیکن راکھ میں سلگتی چنگاریاں وقت آنے پر الاؤ بن کر سب کچھ خاکستر کر دیتی ہیں۔ پاپولر مگر جھوٹی سیاست ہو یا ریاستی جبر ، معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کر کے باہمی نفرت ، تلخیوں اور دشمنی کی گہری دراڑیں پیدا کر دیتے ہیں ، حتمی نتیجہ ریاستوں کے زوال ، تقسیم یا سقوط کی شکل میں برآمد ہوتا ہے۔ مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بن جانا کسی قیامت سے کم نہیں تھا لیکن نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود سقوط ِ ڈھاکہ سے کچھ نہیں سیکھا۔
