
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی حکومت نے ایرانی حکام کو اگلے ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ویزے جاری کر دیئے ہیں۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ جن ایرانی عہدیداروں کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے ان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے جمعرات کو اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وفد کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہوں گی اور اسے بعض امریکی مصنوعات خریدنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ فروری میں شروع ہونے والی اس جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے اثرات پڑوسی ممالک تک بھی پھیل چکے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میزبان ملک کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کے مطابق، ایرانی حکومت کے مرکزی وفد کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔‘
انھوں نے کہا ’وفد کی نقل و حرکت پر پابندیاں ہوں گی اور ہماری پالیسی کے مطابق انھیں لگژری اور بعض دیگر اشیا کی خریداری کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ وفد گذشتہ سال کے مقابلے میں چھوٹا ہے۔‘
گذشتہ سال ایران سے آنے والے سفارت کاروں پر کاسٹکو جیسے ہول سیل سٹورز سے خریداری پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ زیورات، شراب اور گاڑیوں سمیت لگژری اشیا خریدنے سے قبل انھیں امریکی حکام سے اجازت لینا ضروری تھا۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس اس وقت جاری ہے۔ اس سالانہ اجتماع کا مرکزی حصہ سمجھی جانے والی جنرل ڈیبیٹ منگل سے شروع ہونے والی ہے۔
