250 ملین سے زائد انسانوں کا یہ ملک جب اندھیرے میں ڈوبتا ہے تو صرف بلب نہیں بجھتے امیدیں بھی مدھم پڑ جاتی ہیں۔ پاکستان کا ہر گھر ہر گلی ہر شہر ایک ہی سوال

250 ملین سے زائد انسانوں کا یہ ملک جب اندھیرے میں ڈوبتا ہے تو صرف بلب نہیں بجھتے امیدیں بھی مدھم پڑ جاتی ہیں۔ پاکستان کا ہر گھر ہر گلی ہر شہر ایک ہی سوال دہراتا ہے آخر یہ اندھیرے کب ختم ہوں گے؟
یہ سوال آج کا نہیں یہ سوال اُس دن سے ہمارے ذہن میں ہے جب 1986 میں ایک حکومتی وزیر کا بیان تھا کہ “اسی سال لوڈشیڈنگ ہمیشہ کے لیے ختم کر دی جائے گی”۔ چالیس برس ہونے کو آئے، مگر وہ وعدہ آج بھی بجلی کے کھمبوں پر لٹکا ہوا ہے ٹوٹا ہوا، بوسیدہ اور مذاق بنتا ہوا۔
پاکستان میں بجلی کا بحران ایک مستقل سایہ بن چکا ہے مگر اس بار مسئلہ صرف شارٹ فال کا نہیں ہماری دیانت کی شارٹ فال کا بھی ہے جیسے ہی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوا مارکیٹ میں ایک اور تاریکی اُتر آئی، بیٹری مافیا کی تاریکی، چند گھنٹوں میں قیمتیں ہزاروں روپے بڑھا دی گئیں جیسے قوم کی مجبوری ان کے لیے کاروباری موقع ہو۔ یہ مافیا کون ہے؟ کوئی کافر یا غیر ملکی ایجنٹ؟ یقیناً آپ کا بھی جواب ہوگا کہ نہیں یہ “ہم ہیں پاکستانی”۔
