بری آواز بھی فلم کو تباہ کر دیتی ہے، فوٹو گرافی خواہ کتنی اچھی ہو آواز خراب ہو تو فلم برباد ہو جاتی ہے، ساؤنڈ ڈیپارٹمنٹ والوں کا مطمئن ہونا ضروری ہے

بڑا ڈیٹا Sep 18, 2026 IDOPRESS

مصنف: محمد سعید جاوید


قسط:76


شوٹنگ کے مرحلے میں بھی کچھ ٹیکنیشن یا نچلے درجے کے ملازمین کی ضرورت ہوتی ہے جن میں کرین آپریٹر، لائٹنگ آپریٹر، الیکٹریشن کے علاوہ کلیپر بوائے، اسسٹنٹ کیمرہ مین وغیرہ شامل ہیں۔ کچھ مزدور بھی ہوتے ہیں جو بھاری مشینری کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، ٹرالی چلانے کے لیے پٹڑی بچھاتے ہیں۔ ان میں ٹرالی کو دھکیلنے والے مزدور بھی ہوتے ہیں اور کچھ لوگ فلم بندی کے دوران کھانا یا مشروبات کی فراہمی کے علاوہ مرکزی کرداروں کے لیے آرام کرنے اور مل کر بیٹھنے کی جگہ بناتے ہیں۔


شوٹنگ کے دوران کلیپر بوائے کا بھی بڑا کردار ہوتا ہے۔ وہ ایک تختی لے کر کھڑا ہوتا ہے اور ہر شاٹ کو فلمانے کے وقت وہ اس پر شاٹ نمبر فلم کا نام اور دوسری معلومات تحریر کر کے کیمرے کے آگے کر دیتا ہے۔ یہ معلومات آگے چل کر ایڈیٹر اور ڈائریکٹر کے کام آتی ہیں۔ واضح رہے کہ اکثر اوقات ایک ایک منظر کو فلمانے کے لیے بار بار شوٹ کرنا پڑتا ہے کیونکہ فنکار سے کوئی بھول چوک ہو جاتی ہے یا کوئی تکنیکی خرابی نکل آتی ہے۔ ایک سین کو بیس بیس بار بھی فلمانا پڑتا ہے جب تک ڈائریکٹر مطمئن نہیں ہوتا، بار بار کیمرہ مین اس منظر کو فلماتا ہے۔


لائٹ انجینئر روشنی کا اور ساؤنڈ انجینئر آواز کا نظام سنبھالتا ہے۔ کیمرہ مین اور ڈائریکٹر مل کر منظر کے زاویئے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ Continuity سپروائزر مسلسل اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ اس دوران میک اپ اور کاسٹیوم والے بھی آس پاس ہی منڈلاتے رہتے ہیں اور ہر منظر کی عکسبندی کے بعد اداکاروں کا میک اپ تازہ کرتے رہتے ہیں اور جہاں بھی ان کی ضرورت ہوتی ہے ان کو بلا لیا جاتا ہے۔


چونکہ فلم بندی اور سیٹ کی تیاری پر بہت زیادہ خرچ آتا ہے اس لیے ڈائریکٹر یا اس کے اسسٹنٹ اصلی فلم کی شوٹنگ سے پہلے مصنوعی اداکاروں کو لے کرفلم کے مجوزہ سین کی شوٹنگ ریہرسل کر کے زاویہ اور روشنی وغیرہ چیک کر لیتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ”سب ٹھیک ہے“۔ تب ہی فلم کے اصلی کرداروں کو بلایا جاتا ہے اورفلم کی شوٹنگ شروع ہو جاتی ہے۔


جب حتمی فلم بندی کا وقت آتا ہے تو فرسٹ اسسٹنٹ ڈائریکٹر با آواز بلند کہتا ہے ”پکچر از اپ، رول ساؤنڈ، رول کیمرہ“ اس دوران کلیبر بوائے اپنے بورڈ کے ساتھ فلم کے شاٹ میں آ جاتا ہے اور کلیپ دینے کے بعد فوراً باہر نکل جاتا ہے۔ تب ڈائریکٹر ”سٹارٹ ایکشن“ کہتا ہے تو اداکار اپنا کام شروع کر دیتے ہیں اور جب سین مکمل ہو جاتا ہے تو ڈائریکٹر بلند آواز سے ”کٹ“ کہتا ہے اور کیمرہ رک جاتا ہے۔ اگر سین اس کی مرضی کے مطابق ہو جاتا ہے تو ”اوکے“ کہتا ہے، اگر نہیں تو ”ری ٹیک“ کہتا ہے۔ اور نئے سرے سے یہ سب کچھ شروع ہو جاتا ہے۔ فلم کا ڈائریکٹر ہر وقت فلم کے اداکاروں سے رابطے میں رہتا ہے۔


واضح رہے پرانے وقتوں میں جب سیلولائیڈ فلمیں ہوتی تھیں تو فلم بندی کے بعد ان کو دْھل کر آنے میں کئی روز لگ جاتے تھے اور اس وقت اگر کچھ غلطی نکل آتی تو بہت مسئلہ ہوتا تھا۔ نئے سرے سے سارا سیٹ لگانا پڑتا تھا۔ لیکن جب سے ڈیجیٹل کیمرہ آئے ہیں تو ڈائریکٹر کو بہت آسانی ہو گئی ہے۔ وہ ڈیجیٹل کیمرے سے بھی ساتھ ساتھ اس منظر کو فلماتا جاتا تھا جس کو اسی وقت چلا کر دیکھ لیا جاتا ہے اور اگر اس میں کچھ مسئلہ ہو یا کسی وجہ سے دوبارہ فلمانا ہو تو اسی وقت دوبارہ فلم بندی کر لی جاتی ہے۔ کام مکمل ہو جانے کے بعد ڈائریکٹر کے منہ سے پیک اپ کی آواز کے ساتھ ”کیمرہ پیک اپ“ کر دیا جاتا ہے اور اس دن کا کام مکمل ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں بیک اپ پلان موجود ہوتا ہے۔ بْری آواز بھی فلم کو تباہ کر دیتی ہے۔ فوٹو گرافی خواہ کتنی بھی اچھی ہو اگر آواز خراب ہو تو فلم برباد ہو جاتی ہے۔ اس لیے ساؤنڈ ڈیپارٹمنٹ والوں کا مطمئن ہونا ضروری ہے۔ ہر چند کہ بعد میں پوسٹ پروڈکشن کے دوران ڈبنگ اور فولی سسٹم سے یہ نقائص دور کئے جا سکتے ہیں پھر بھی اچھے ساؤنڈ انجینئر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو آواز کی ریکارڈنگ صحیح طرح سے ہو جائے۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں