
تہران، لندن (ویب ڈیسک)ایران کی اسلامی مشاورتی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر علی نیکزاد نے دعویٰ کیا ہے کہ 29 مارچ کوامریکی و اسرائیلی حملے کے تقریباً 1 گھنٹے بعد ہی علی خامنہ ای کی موت کا پتا چل گیا تھا،پھر رات ایک بجے ہونے والے اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ اذانِ فجر سے پہلے، یہ خبر ایرانی نشریاتی اداروں کے ذریعے ایرانی قوم تک پہنچائی جائے گی۔
ان کا مزید کہناتھاکہ یہ معجزہ تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اُس وقت اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود نہیں تھے اور شہید نہیں ہوئے، جو میزائل کمپاؤنڈ کے احاطے پر لگے وہ بنکر شکن میزائل نہیں تھے بلکہ کروز میزائل تھے۔ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے رہنما کسی تہہ خانے یا بنکر میں نہیں تھے بلکہ اپنے روزمرہ اُمور کو سرانجام دے رہے تھے۔
یاد رہے کہ ایرانی حکام نے جنگ کے پہلے دن کے اختتام تک علی خامنہ ای کی موت کی خبر کی تصدیق نہیں کی تھی، امریکی و اسرائیلی قیادت کے دعوے پہلے سامنے آئے تھے ۔
