
اسلا م آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی زاہد گشکوری نے دعویٰ کیا ہےکہ سپین اور پاکستان کی شہریت رکھنے والے شہری نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کوایک خط لکھا ہے اور اپنے ساتھ پیش آنیوالے واقعات کی تفصیل شیئرکی جس کے مطابق انہیں کروڑوں روپے ادا نہیں کیے گئے ، الٹا مجھے نشانِ عبرت بنانے کا کہا گیا اور اب مجھے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جارہاہے ۔
اپنے ایک ویلاگ میں زاہد گشکوری نے بتایاکہ ایس اینڈ ایس ایسوسی ایٹس کے مالک ظہیر شاکرنے پاکستان کے فیلڈ مارشل کو خط لکھ کر اپیل کی ہے، وہ سی ڈی اے چیئرمین سے بھی ملے ہیں اور وزیرداخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے لیے بھی کوشاں ہیں، کروڑ روں روپے کامعاملہ ہے۔
شہری نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میری فیملی پاکستان کے ساتھ ساتھ سپین کی بھی شہری ہے، 2004میں پاکستان کی محبت میں واپس آئے اور اسلام آباد میں پاک پنجاب ملز کے نام سے کاروبار شروع کیا، پچاس سے زائد خانداندانوںکو نوکریاں دیں،ٹیکس دیتے ہیں،رجسٹرڈہیں، 2022 میں سی ڈی اے چیئرمین نےرابطہ کیا کہ عدالتی حکم پرہمیں ایمرجنسی میں آوارہ کتوں کے لیے سنٹربنانا ہے، ہم زمین دیتے ہیں، سنٹر بنا کرچلادیں، پی سی ون منظور کرکے تین ماہ میں قیمت ادا کردیں گے، میں نے سب کچھ کردیا جس کی ویڈیوز موجود اور الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہوچکی ہیں لیکن حکومت کے ساتھ تجربہ برا رہا۔
ان کا مزید کہناتھاکہ ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود کچھ نہیں ہوا، ہمیں سنہری خواب دیکھائے جاتے رہے جس کے بعد مجبوراً میں وفاقی محتسب چلاگیا، پھر 3 سال کا مزید معاہدہ تھمادیا گیا، سرتسلیم خم کیا اور کام چلاتا رہا، اسی دوران ایک کانفرنس آگئی تو وزیراعظم نے وی وی آئی پی سیکیورٹی کے لیے پولیس کے نائن سنٹر بنانے کا حکم دیا،لوگوں نے میرا نمبر دیا اور میری مہارت کو دیکھتے ہوئے آئی جی صاحب پیچھے پڑ گئے کہ سنٹر بنا دیں، رات کو10 بجے کال آئی ، وہاں پہنچاتو سی ڈی اے چیئرمین اور ممبر فنانس بھی بیٹھے تھے،5 کروڑ پیمنٹ کا وعدہ کیا کہ باقی رقم یونٹ کی تکمیل کے بعد کریںگے، پندرہ دن بعد کانفرنس بھی ہوگئی لیکن آئی جی کی طرف سے ہونیوالی تعریف میرے گلے پڑگئی، چییرمین نے مجھے گالیاں دینا شروع کردیں کہ آئی جی کو پندرہ دن بعد ہی پراجیکٹ بنادیا، مجھے نشانہ عبرت بنانے کا کہا گیا اور اب مجھے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جارہاہے ۔
