
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ حسین محبی کا کہنا ہے کہ ’جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے کے نتائج امریکہ کو ’اقتصادی اور عسکری محاذوں پر‘ بھگتنا ہوں گے۔‘
بی بی سی اردو کے مطابق انھوں نے اس حملے کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ’نام نہاد اقتصادی جنگ‘ کے دوران کی جانے والی ایک ’مہلک سٹریٹجک غلطی‘ قرار دیا ہے۔
حسین محبی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ اقدام اس کے منصوبہ سازوں کے خلاف طاقت کے توازن کو تبدیل کر دے گا اور امریکہ کو ’بھاری قیمت‘ چکانا پڑے گی۔‘
واضح رہے کہ چند گھنٹے قبل پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس ونگ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ’ایرانی عوام کی 200 روزہ مزاحمت‘ کے بعد ’دشمن‘ اب نفسیاتی جنگ کے ذریعے ’قومی استحکام اور عوامی ثابت قدمی کو کمزور کرنے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ’ایران کے خلاف جاری دباؤ کا مقصد عوامی اعتماد کو متاثر کرنا اور داخلی سطح پر عدم استحکام پیدا کرنا ہے، تاہم ایرانی قوم ان کوششوں کے مقابلے میں اپنی مزاحمت برقرار رکھے ہوئے ہے۔‘
