
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) میں یورپی ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے قرارداد کے نئے مسودے کے حوالے سے، جس کے نتیجے میں ایران کا جوہری معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجا جا سکتا ہے، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’اگر یہ قرارداد منظور ہوئی تو ایران جوابی کارروائی کرے گا۔‘
بی بی سی اردو کے مطابق اس قرارداد کے بارے میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یورپی ممالک جب دوسرے معاملات میں ناکام ہوتے ہیں تو جوہری معاملے کا سہارا لیتے ہیں، یا اس کے برعکس، آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل خود سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ اقدام ایران، چین اور روس کے اس مؤقف کی تصدیق کرتا ہے کہ ’سنیپ بیک کا طریقۂ کار غیر قانونی اور ناقابلِ عمل ہے۔‘
بقائی نے قرارداد کے اس مسودے کی تیاری کو ’ایک نقصان دہ راستے کی تکرار‘ قرار دیا اور کہا کہ ایران کے جوہری معاملے کے حوالے سے تین یورپی ممالک ’حاشیے پر چلے گئے ہیں۔‘
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے باعث ’راستہ مسدود ہو چکا ہے‘ اور اب ایجنسی کے لیے ان تنصیبات کا معائنہ کرنا ممکن نہیں۔‘
یورپی ممالک اور آئی اے ای اے ایران کی جوہری تنصیبات، بالخصوص ان تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جنھیں حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
