اکیسویں صدی کے آغاز تک فلمیں ریلوں کی شکل میں ہی مہیا کی جاتی تھیں، جن کو امریکی”اسپول“ کہتے تھے،پرنٹ بنوانا بہت مہنگا پڑتا تھا

حیاتیات Sep 29, 2026 IDOPRESS

مصنف: محمد سعید جاوید


قسط:87


ڈیجیٹل فلموں کی آمد سے قبل ڈائریکٹر فلم مکمل کر کے پروڈیوسر کے حوالے کر دیتا تھا۔ اب یہ اس پر منحصر تھا کہ وہ اپنی فلم کی تقسیم کاری کیسے کرے۔ یہ کام عموماً تقسیم کار یا ڈسٹری بیوٹر ہی کرتے تھے۔ وہ ایک معاہدے اور مقررہ رقم کے عوض پروڈیوسر سے فلم کے حقوق خرید لیتا اور پھر وہ یا پروڈیوسر حسب ضرورت لیبارٹری سے اس کے پرنٹ نکلوا کر ان سینماؤں کو بھیجا کرتے تھے، جن کے ساتھ ان کا معاہدہ ہو جاتا تھا۔ مثلاً پروڈیوسر کا فلم پر ایک کروڑ روپیہ خرچ آیا تھا تو وہ ڈیڑھ کروڑ میں اسے ڈسٹری بیوٹر کو بیچ دے گا۔ ڈسٹری بیوٹر اس ڈیڑھ کروڑ کے علاوہ اپنا منافع شامل کر کے اور کچھ حساب کتاب لگا کر یہ فلم مختلف سینما مالکان کو بھیج دیتا تھا۔ پہلے تو یہ سیلو لائیڈ فلم ڈبوں میں بند ہوتی تھی اور وہ بذریعہ ریل گاڑی لکڑی کے بڑے بڑے صندوقوں میں رکھ کر ملک بھر کے سینماؤں کو بھیجی جاتی تھی۔ جہاں وہ اسے وصول کر کے اس کی نمائش کی تیاری شروع کر دیتے تھے۔


واضح رہے کہ ابتداء سے لے کر اکیسویں صدی کے آغاز تک فلمیں ریلوں کی شکل میں ہی مہیا کی جاتی تھیں۔ جن کو امریکی اسپول کہتے تھے۔معاہدہ طے پا جانے کے بعد ڈسٹری بیوٹر کا عملہ فلم کی تمام ریلوں کو صندوقوں میں بند کر کے متعلقہ سینماؤں کو بھیج دیتا تھا۔ عموماً دو ڈھائی گھنٹے کی فلم میں 10 یا 12 ریلیں ہوتی تھیں جو ایک ترتیب سے2پروجیکٹروں پر چلائی جاتی تھیں۔ یہ دراصل فلم کا ایک ہی پرنٹ ہوتا تھا۔ جو ایک وقت میں ایک ہی سینما میں چلایا جاسکتا تھا۔ جب ڈسٹری بیوٹر کے دفتر سے فلم کی مکمل ریلیں پروجیکشن روم میں پہنچ جاتی تھیں تو وہاں کا ٹیکنیشین فلموں کا اچھی طرح معائنہ کر تا اور اس بات کو یقینی بناتا کہ اس میں مکمل فلم کی ریلیں موجود ہے۔


اگر فلم شہر کے کم سینماؤں میں لگی ہے اور ڈسٹری بیوٹر نے اتنے ہی پرنٹ مہیا کر دیئے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔ سینما آپریٹر باآسانی اور سکون سے اپنے سینما میں فلم دکھا دیتے تھے۔ یہ امریکہ جیسے ملکوں میں تو قابل عمل ہے کہ وہاں اتنے پرنٹ بنوا لیے جاتے ہیں کہ ہر سینما کو مکمل فلم مل جائے۔تاہم ترقی پذیر ملکوں کے بڑے شہروں، جیسا کہ کراچی یا لاہور میں ہوتا تھا کہ ایک نئی فلم بیک وقت کئی سینماؤں میں لگتی تھی،لیکن ان کی مانگ پوری کرنے کے لیے اتنی تعداد میں پرنٹ میسر نہیں ہوتے تھے تو ایسے میں وہ فلم کے ایک ہی پرنٹ کو 2 اور بعض اوقات 3 سینماؤں میں بھی دکھا دیتے تھے۔ پاکستان میں فلم کا پرنٹ بنوانا بہت مہنگا پڑتا تھا۔ اس لیے ڈسٹری بیوٹر ایک دو سینماؤں کے ساتھ اس طرح کے انتظامات کرتا تھا کہ ایک سینما ہال میں فلم کی پہلی دو تین ریلیں چلنے کے بعد فلم کی یہ ریلیں دوسرے سینما ہال کو بھیج دی جائیں تاکہ وہ اپنا شو شروع کر سکے۔ اس طریقۂ کار کی تفصیل آگے چل کر بیان ہو گی۔


(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آل اسٹار ٹیکنالوجی آن لائن ٹیکنالوجی: ٹیک، AI، ایرو اسپیس، بایوٹیک، اور توانائی کی خبروں کے لیے آپ کا ذریعہ

آرین اسٹار ٹیکنالوجی، ایک ٹیکنالوجی نیوز پورٹل۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور دیگر شعبوں میں تازہ ترین پیشرفت کی اطلاع دینے کے لیے وقف ہے۔
© ایرن اسٹار ٹیکنالوجی رازداری کی پالیسی ہم سے رابطہ کریں