
پشاور (ویب ڈیسک) سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ بروقت بجٹ منظور نہ ہوا تو اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک لاسکتی ہے، وزیراعلی خیبر پختونخوا کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑ سکتا ہے، یا وزیراعلی اسمبلی تحلیل کرنے کا کہہ سکتا ہے، گورنر راج بھی لگ سکتا ہے‘۔
ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہاہے کہ بجٹ پیش کرنے یا نہ کرنے کامسئلہ نہیں ہے، صوبے کو ملنے والے وسائل جب پورے نہیں ملتے تو اس کے بغیر بجٹ کیسے پیش کرسکتے ہیں، ممبران اسمبلی اور صوبائی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وفاق اگر پنجاب اورشاید سندھ کو پورے وسائل دے رہا ہے تو ہمیں کیوں نہیں مل رہے، یہ کوئی خیرات تو نہیں ، ہمارا آئینی حق ہے۔
ان کا کہناتھاکہ میں وزیرپارلیمانی افیئرز رہاہوں،اگر آپ بجٹ پیش نہیں کریں گے تو اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لاسکتی ہے، وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑتاہے، شق میں بھول رہاہوں لیکن کچھ مدت کے لیے آپ بجٹ پیش کرسکتے ہیں، شاید نگران دور میں بھی ایسا کیا گیا تھا۔
شوکت یوسفزئی نے مزید کہاکہ 30 جون تک بجٹ پیش نہیں ہوتا تو وزیراعلیٰ گورنر کواسمبلی تحلیل کرنے کا کہہ سکتا ہے اور 24 گھنٹے کے اندر اسمبلی تحلیل ہوجاتی ہے، اگر وہ نہیں ہوتا تو پھر گورنر راج بھی لگ سکتا ہے، یہ مختلف آئینی آپشنز ہیں، یہاں فنڈز نہ دینا زیادتی ہے، دہشتگر دی کیخلاف جنگ لڑرہے ہیں، یہاں پر لوگ قربانیاں بھی دے رہے ہیں، ہمیں حق دینے کی بجائے ہم سے ہی حساب مانگا جاتاہے۔
